(۸۶۵۸) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِینَارٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : کَانَتْ عُکَاظٌ وَمَجَنَّۃُ وَذُو الْمَجَازِ أَسْوَاقًا فِی الْجَاہِلِیَّۃِ فَلَمَّا کَانَ الإِسْلاَمُ تَأَثَّمُوا مِنَ التِّجَارَۃِ فِیہَا فَأَنْزَلَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ {لَیْسَ عَلَیْکُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَبْتَغُوا فَضْلاً مِنْ رَبِّکُمْ} فِی مَوَاسِمِ الْحَجِّ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَلِیِّ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ وَغَیْرِہِ۔ [صحیح۔ بخاری ۱۶۸۱]
(٨٦٥٨) ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ عکاظ مجنۃ اور ذوالمجاز جاہلیت کے بازار تھے، جب اسلام آیا تو لوگوں نے ان میں تجارت کو گناہ سمجھا تو اللہ نے یہ آیت نازل فرما دی : { لَیْسَ عَلَیْکُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَبْتَغُوا فَضْلاً مِنْ رَبِّکُمْ } ” تم پر کوئی گناہ نہیں اگر تم بھی اپنے رب کا فضل تلاش کرلو (حج کے موسم میں) ۔ “