(۸۶۹۰) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ حَدَّثَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ عَنْ عَطَائٍ أَنَّہُ قَالَ فِی رَجُلٍ لَمْ یَحُجَّ فَحَجَّ یَنْوِی النَّافِلَۃَ أَوْ حَجَّ عَنْ رَجُلٍ أَوْ حَجَّ عَنْ نَذْرِہِ قَالَ : ہَذِہِ حَجَّۃُ الإِسْلاَمِ ، ثُمَّ یَحُجُّ عَنِ الرَّجُلِ بَعْدُ إِنْ شَائَ وَعَنْ نَذْرِہِ۔
[ضعیف۔ مسند شافعی ۵۰۷]
(٨٦٩٠) عطاء اس شخص کے بارے میں فرماتے ہیں : جس نے حج نہیں کیا اور وہ حج کرتا ہے تو نفلی حج کی نیت کرلیتا ہے یا کسی اور شخص کی طرف سے حج کرنے کی نیت کرتا ہے یا اپنی نذر کو پورا کرنے کے لیے حج کی نیت کرتا ہے تو یہ اس کا فرض حج ہی ہوگا۔ اس کے بعد اگر وہ چاہے تو کسی شخص کی طرف سے یا نذر کو پورا کرنے کے لیے حج کرلے۔