(۸۷۴۲) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا یَحْیَی عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ عَنْ عَطَائٍ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ یُخْبِرُنَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- لاِمْرَأَۃٍ مِنَ الأَنْصَارِ قَدْ سَمَّاہَا ابْنُ عَبَّاسٍ وَنَسِیتُ اسْمَہَا : ((مَا مَنَعَکِ أَنْ تَحُجِّی مَعَنَا الْعَامَ؟))۔ قَالَتْ : یَا نَبِیَّ اللَّہِ إِنَّہُ کَانَ لَنَا نَاضِحَانِ فَرَکِبَ أَبُو فُلاَنٍ وَابْنُہُ لِزَوْجِہَا وَابْنِہَا نَاضِحًا وَتَرَکَ نَاضِحًا نَنْتَضِحُ عَلَیْہِ۔ فَقَالَ النَّبِیُّ -ﷺ-: ((فَإِذَا کَانَ رَمَضَانُ فَاعْتَمِرِی فَإِنَّ عُمْرَۃً فِی رَمَضَانَ تَعْدِلُ حَجَّۃً))۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ عَنْ مُسَدَّدٍ ، وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَاتِمٍ عَنْ یَحْیَی الْقَطَّانِ۔
[صحیح۔ بخاری ۱۶۹۰۔ مسلم ۱۲۵۶]
(٨٧٤٢) ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک انصاری عورت کو کہا : ہمارے ساتھ اس سال حج کرنے سے تجھے کیا چیز مانع ہے ؟ تو کہنے لگی : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میرا شوہر اور بیٹا ایک اونٹنی پر سوار ہوگئے ہیں اور صرف ایک اونٹنی بچی ہے، جس سے ہم پانی نکالتے ہیں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : چلو جب رمضان آئے تو عمرہ کرلینا کیوں کہ رمضان کا عمرہ حج کے برابر ہے۔