(۸۷۴۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو النَّضْرِ : مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یُوسُفَ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِیُّ فِیمَا قَرَأَ عَلَی مَالِکٍ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ عُرْوَۃَ بْنِ الزُّبَیْرِ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَتْ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فِی حَجَّۃِ الْوَدَاعِ فَأَہْلَلْنَا بِعُمْرَۃٍ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((مَنْ کَانَ مَعَہُ ہَدْیٌ فَلْیُہِلَّ بِالْحَجِّ مَعَ الْعُمْرَۃِ ، ثُمَّ لاَ یَحِلَّ حََتَّی یَحِلَّ مِنْہُمَا جَمِیعًا))۔ قَالَتْ : فَقَدِمْتُ مَکَّۃَ وَأَنَا حَائِضٌ وَلَمْ أَطُفْ بِالْبَیْتِ وَلاَ بَیْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ فَشَکَوْتُ ذَلِکَ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَ : ((انْقُضِی رَأْسَکِ وَامْتَشِطِی وَأَہِلِّی بِالْحَجِّ وَدَعِی الْعُمْرَۃَ))۔ قَالَتْ : فَفَعَلْتُ فَلَمَّا قَضَیْنَا الْحَجَّ أَرْسَلَنِی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- مَعَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی بَکْرٍ إِلَی التَّنْعِیمِ فَاعْتَمَرْتُ فَقَالَ : ((ہَذِہِ مَکَانَ عُمْرَتِکِ))۔ قَالَتْ : فَطَافَ الَّذِینَ کَانُوا أَہَلُّوا بِالْعُمْرَۃِ بِالْبَیْتِ وَبَیْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ ، ثُمَّ حَلُّوا ، ثُمَّ طَافُوا طَوَافًا آخَرَ بَعْدَ أَنْ رَجَعُوا مِنْ مِنًی بِحَجِّہِمْ ، وَأَمَّا الَّذِینَ کَانُوا جَمَعُوا بِالْحَجِّ وَالْعُمْرَۃِ فَإِنَّمَا طَافُوا طَوَافًا وَاحِدًا۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ عَنِ الْقَعْنَبِیِّ ، وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی عَنْ مَالِکٍ۔ وَکَذَا قَالَہُ مَعْمَرٌ عَنِ الزُّہْرِیِّ: ((مَنْ کَانَ مَعَہُ ہَدْیٌ فَلْیُہِلَّ بِالْحَجِّ مَعَ عُمْرَتِہِ، ثُمَّ لاَ یَحِلَّ حَتَّی یَحِلَّ مِنْہُمَا جَمِیعًا))۔
وَرَوَاہُ عُقَیْلٌ عَنِ الزُّہْرِیِّ فَقَالَ : مَنْ أَحْرَمَ بِعُمْرَۃٍ وَلَمْ یُہْدِ فَلْیُحْلِلْ ۔ وَبِمَعْنَاہُ رَوَتْہُ عَمْرَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ وَصَدَّقَہَا فِی ذَلِکَ الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ وَعَلَی مِثْلِ ذَلِکَ تَدُلُّ رِوَایَۃُ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا وَقَوْلُہُ : ((أَہِلِّی بِالْحَجِّ وَدَعِی الْعُمْرَۃَ))۔ یُرِیدُ بِہِ أَمْسِکِی عَنْ أَفْعَالِہَا وَأَدْخِلِی عَلَیْہَا الْحَجَّ وَذَلِکَ بَیِّنٌ فِی رِوَایَۃِ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فِی قِصَّۃِ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا۔
[صحیح۔ بخاری ۱۴۸۱۔ مسلم ۲۱۱]
(٨٧٤٥) (الف) سیدہ عائشہ (رض) فرماتی ہیں : ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ حجۃ الوداع میں نکلے تو ہم نے عمرہ کا تلبیہ کہا : پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس کے پاس قربانی ہے، وہ حج و عمرہ دونوں کا تلبیہ کہے ، پھر حلال نہ ہو حتیٰ کہ دونوں سے فارغ ہو لے، فرماتی ہیں : میں مکہ حیض کی حالت میں پہنچی اور میں نے بیت اللہ اور صفا ومروہ کا طواف نہ کیا تھا تو اس بات کا شکوہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اپنا سر کھول دے اور کنگھی کرلے اور حج کا تلبیہ کہہ اور عمرہ کو رہنے دے، فرماتی ہیں : میں نے ایسے ہی کیا تو جب ہم نے حج کرلیا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے عبدالرحمن بن ابی بکر کے ساتھ تنعیم کی طرف بھیجا، پھر میں نے عمرہ کیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ تیرے عمرے کی جگہ ہے، فرماتی ہیں : جنہوں نے عمرہ کا تلبیہ کہا تھا، انھوں نے بیت اللہ اور صفا و مروہ کا طواف کیا، پھر حلال ہوگئے۔ پھر انھوں نے ایک اور طواف کیا جب وہ اپنے حج سے فارغ ہو کر منیٰ سے لوٹے اور جنہوں نے حج و عمرہ کو جمع کیا تھا انھوں نے صرف ایک ہی طواف کیا۔
(ب) معمر زہری سے نقل فرماتے ہیں : جس کے پاس قربانی ہو تو وہ حج کے ساتھ عمرہ کا تلبیہ بھی پکارے ، پھر ان دونوں سے اکٹھا حلال ہو۔
(ج) عقیل نے زہری سے روایت کیا تو انھوں نے کہا : جس نے عمرہ کا احرام باندھا اور قربانی نہ کی تو وہ حلال ہوجائے۔ اس کی مثل ہشام بن عروہ کی روایت ہے وہ اپنے والد سے اور وہ سیدہ عائشہ (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے فرمان :” حج کا تلبیہ پکار اور عمرہ کو چھوڑ دے “۔ مراد یہ تھی کہ اپنے افعال سے رک جا اور حج کے افعال کو لازم کر۔