(۸۷۴۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ بْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا اللَّیْثُ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِی طَاہَرٍ الْعَنْبَرِیُّ أَخْبَرَنَا جَدِّی یَحْیَی بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِی حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ الإِسْمَاعِیلِیُّ حَدَّثَنَا عِیسَی بْنُ حَمَّادٍ أَخْبَرَنَا اللَّیْثُ بْنُ سَعْدٍ حَدَّثَنِی أَبُو الزُّبَیْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّہُ قَالَ : أَقْبَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- مُہِلِّینَ بِالْحَجِّ مُفْرَدًا وَأَقْبَلَتْ عَائِشَۃُ مُہِلَّۃً بِعُمْرَۃٍ حَتَّی إِذَا کَانَتْ بِسَرِفَ عَرَکَتْ حَتَّی إِذَا قَدِمْنَا طُفْنَا بِالْکَعْبَۃِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ فَأَمَرَنَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- أَنْ یَحِلَّ مِنَّا مَنْ لَمْ یَکُنْ مَعَہُ ہَدْیٌ قَالَ فَقُلْنَا : حِلُّ مَاذَا؟ قَالَ : ((الْحِلُّ کُلُّہُ))۔ فَوَاقَعْنَا النِّسَائَ فَطَیَّبْنَا بِالطِّیبِ وَلَبِسْنَا ثِیَابَنَا وَلَیْسَ بَیْنَنَا وَبَیْنَ عَرَفَۃَ إِلاَّ أَرْبَعُ لَیَالٍ ، ثُمَّ أَہْلَلْنَا یَوْمَ التَّرْوِیَۃِ ، ثُمَّ دَخَلَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- عَلَی عَائِشَۃَ فَوَجَدَہَا تَبْکِی فَقَالَ : ((مَا شَأْنُکِ))۔ قَالَتْ : شَأْنِی أَنِّی حِضْتُ وَقَدْ حَلَّ النَّاسُ ، وَلَمْ أَحْلِلْ ، وَلَمْ أَطُفْ بِالْبَیْتِ وَالنَّاسُ یَذْہَبُونَ إِلَی الْحَجِّ الآنَ۔ قَالَ : ((فَإِنَّ ہَذَا أَمْرٌ کَتَبَہُ اللَّہُ عَلَی بَنَاتِ آدَمَ فَاغْتَسِلِی ، ثُمَّ أَہِلِّی بِالْحَجِّ))۔ فَفَعَلَتْ وَوَقَفَتِ الْمَوَاقِفَ حَتَّی إِذَا طَہُرَتْ طَافَتْ بِالْکَعْبَۃِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ ، ثُمَّ قَالَ : ((قَدْ حَلَلْتِ مِنْ حَجِّکِ وَعُمْرَتِکِ جَمِیعًا))۔ قَالَتْ : یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنِّی أَجِدُ فِی نَفْسِی أَنِّی لَمْ أَطُفْ بِالْبَیْتِ حَتَّی حَجَجْتُ۔ قَالَ : ((فَاذْہَبْ بِہَا یَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ فَأَعْمِرْہَا مِنَ التَّنْعِیمِ))۔ وَذَلِکَ لَیْلَۃَ الْحَصْبَۃِ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ قُتَیْبَۃَ عَنِ اللَّیْثِ۔ [صحیح۔ مسلم ۱۲۱۳]
(٨٧٤٦) سیدنا جابر (رض) فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ صرف حج کا تلبیہ کہتے ہوئے گئے اور اور عائشہ (رض) نے عمرہ کا تلبیہ کہا حتیٰ کہ جب وہ سرف کے مقام پر پہنچیں تو حائضہ ہوگئیں حتیٰ کہ جب ہم مکہ پہنچے تو ہم نے کعبہ اور صفا ومروہ کا طواف کیا، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو شخص قربانی ساتھ لے کر نہیں آیا وہ حلال ہوجائے ۔ ہم نے پوچھا : یہ کیسا حلال ہونا ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مکمل طور پر حلال ہونا ہے تو ہم عورتوں پر واقع ہوئے، خوشبو لگائی، کپڑے پہنے اور ہمارے اور عرفہ کے درمیان صرف چار راتیں تھیں، پھر یوم الترویہ (آٹھ ذوالحجہ) کو ہم نے احرام باندھا، پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عائشہ (رض) کے پاس گئے تو انھیں روتے ہوئے پایا تو پوچھا : تیرا کیا معاملہ ہے ؟ کہنے لگیں : میرا معاملہ یہ ہے کہ میں حائضہ ہوگئی ہوں اور لوگ حلال بھی ہوچکے ہیں اور میں حلال نہیں ہوئی اور میں نے بیت اللہ کا طواف بھی نہیں کیا اور لوگ اب حج کی طرف جا رہے ہیں، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ ایسا معاملہ ہے کہ اللہ نے اس کو بنات آدم پر مقرر کر رکھا ہے، لہٰذا تو غسل کر اور حج کے لیے تلبیہ کہہ۔ انھوں نے ایسا ہی کیا اور ہر ٹھہرنے کی جگہ پر ٹھہریں حتیٰ کہ جب وہ حیض سے فارغ ہوئیں تو کعبہ اور صفا ومروہ کا طواف کیا۔ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اب تو حج و عمرہ دونوں سے حلال ہوگئی ہے۔ کہنے لگیں : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میرے دل میں خدشہ سا ہے کہ میں نے بیت اللہ کا طواف نہیں کیا حتیٰ کہ حج کرلیا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے عبدالرحمن ! اس کو لے جا اور تنعیم سے عمرہ کروا اور یہ لیلۂ حصبہ کی بات ہے۔