(۸۷۴۷) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی وَأَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی مَالِکُ بْنُ أَنَسٍ وَغَیْرُہُ أَنَّ نَافِعًا حَدَّثَہُمْ : أَنَّ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ عُمَرَ خَرَجَ فِی الْفِتْنَۃِ مُعْتَمِرًا وَقَالَ : إِنْ صُدِدْتُ عَنِ الْبَیْتِ صَنَعْنَا کَمَا صَنَعَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ-۔ فَخَرَجَ فَأَہَلَّ بِالْعُمْرَۃِ وَسَارَ حَتَّی إِذَا ظَہَرَ عَلَی ظَاہِرِ الْبَیْدائِ الْتَفَتَ إِلَی أَصْحَابِہِ فَقَالَ : مَا أَمْرُہُمَا إِلاَّ وَاحِدٌ۔ أُشْہِدُکُمْ أَنِّی قَدْ أَوْجَبْتُ الْحَجَّ مَعَ الْعُمْرَۃِ۔ فَخَرَجَ حَتَّی جَائَ الْبَیْتَ فَطَافَ بِہِ وَطَافَ بَیْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ سَبْعًا لَمْ یَزِدْ عَلَیْہِ وَرَأَی أَنَّ ذَلِکَ مُجْزِیًا عَنْہُ وَأَہْدَی۔
[صحیح۔ بخاری ۱۷۱۲۔ مسلم ۱۲۳۰]
أَخْرَجَاہُ فِی الصَّحِیحَیْنِ مِنْ حَدِیثِ مَالِکٍ ، وَرَوَاہُ عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ وَغَیْرُہُ عَنْ نَافِعٍ وَزَادُوا فِیہِ : أَنَّہُ لَمْ یَحِلَّ مِنْہُمَا حَتَّی أَحَلَّ مِنْہُمَا بِحَجَّۃٍ یَوْمَ النَّحْرِ وَقَوْلُہُ لَمْ یَزِدْ عَلَیْہِ أَرَادَ لَمْ یَطُفْ بَیْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃ إِلاَّ مَرَّۃً وَاحِدَۃً۔ وَلَوْ أَہَلَّ بِالْحَجِّ ، ثُمَّ أَرَادَ أَنْ یُدْخِلَ عَلَیْہِ عُمْرَۃً فَقَدْ قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ : أَکْثَرُ مَنْ لَقِیتُ وَحَفِظْتُ عَنْہُ یَقُولُ : لَیْسَ ذَلِکَ لَہُ۔ وَقَدْ یُرْوَی عَنْ بَعْضِ التَّابِعِینَ وَلاَ أَدْرِی ہَلْ یَثْبُتُ عَنْ أَحَدٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِیِّ -ﷺ- فِیہِ شَیْئٌ أَمْ لاَ فَإِنَّہُ قَدْ رُوِیَ عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَلَیْسَ یَثْبُتُ۔ وَإِنَّمَا أَرَادَ مَا۔
(٨٧٤٧) (الف) نافع (رض) فرماتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر (رض) فتنہ میں عمرہ کی نیت سے نکلے اور کہا : اگر مجھے بیت اللہ سے روک دیا گیا تو ہم ویسے ہی کریں گے، جس طرح رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کیا تھا، پس وہ نکلے اور عمرہ کا تلبیہ کہا اور چلے حتیٰ کہ جب بیداء پر چڑھے تو اپنے ساتھیوں کی طرف متوجہ ہو کر کہا : معاملہ تو دونوں کا ایک ہی ہے، میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے حج کو بھی عمرہ کے ساتھ واجب کرلیا ہے، پس وہ نکلے حتیٰ کہ بیت اللہ پہنچے اور اس کا طواف کیا اور صفا ومروہ کا سات مرتبہطواف کیا اس سے زائد نہیں کیا اور سمجھا کہ یہی کافی ہے اور قربانی دی۔
(ب) صحیحین میں امام مالک (رض) کی حدیث ہے، جس کو عبیداللہ بن عمر وغیرہ نے نافع سے نقل کیا ہے اور انھوں نے یہ الفاظ زائد بیان کیے ہیں : وہ ان دونوں سے حلال نہیں ہوئے، حتیٰ کہ ان دونوں سے حج کے ساتھ یوم النحر کے دن حلال ہوئے اور ان کا کہنا کہ ” اس پر زیادہ نہیں کیا “ سے مراد یہ ہے کہ صفا ومروہ کے درمیان صرف ایک دفعہ سعی کی اور اگر اس نے حج کا تلبیہ پکارا، پھر اس پر وہ داخل کرنے کا ارادہ کیا تو (اس بارے میں) امام شافعی فرماتے ہیں کہ میں اکثر لوگوں سے ملا ہوں اور ان سے یہ بات یاد کی ہے وہ کہتے تھے : یہ اس کے لیے (جائز) نہیں ہے۔ بعض تابعین سے روایت کیا گیا ہے، لیکن میرے علم میں نہیں کہ وہ بات کسی صحابی سے ثابت ہے یا نہیں۔ اسی طرح سیدنا علی (رض) سے روایت ہے لیکن وہ ثابت نہیں ہے۔