(۸۸۰۹) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِیعِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ یَعْنِی ابْنَ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ حَدَّثَنِی أَبِی فَذَکَرَ الْحَدِیثَ بِإِسْنَادِہِ نَحْوَہُ۔
وَزَادَ وَأَنَّ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا حَاضَتْ فَنَسَکَتِ الْمَنَاسِکَ کُلَّہَا غَیْرَ أَنَّہَا لَمْ تَطُفْ بِالْبَیْتِ فَلَمَّا طَہُرَتْ طَافَتْ قَالَتْ: یَا رَسُولَ اللَّہِ أَتَنْطَلِقُونَ بِحَجَّۃٍ وَعُمْرَۃٍ وَأَنْطَلِقُ بِالْحَجِّ فَأَمَرَ عَبْدَالرَّحْمَنِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنْ یَخْرُجَ مَعَہَا إِلَی التَّنْعِیمِ فَاعْتَمَرَتْ بَعْدَ الْحَجِّ فِی ذِی الْحَجَّۃِ، وَإِنَّ سُرَاقَۃَ بْنَ مَالِکِ بْنِ جُعْشُمٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ لَقِیَ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- بِالْعَقَبَۃِ وَہُوَ یَرْمِیہَا فَقَالَ: أَلَکُمْ ہَذِہِ خَاصَّۃً یَا رَسُولَ اللَّہِ؟ فَقَالَ: ((بَلْ لِلأَبَدِ))۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُثَنَّی عَنْ عَبْدِ الْوَہَّابِ بِطُولِہِ۔ [صحیح۔ انظر قبلہ]
(٨٨٠٩) جابر بن عبداللہ (رض) فرماتے ہیں کہ اس سفر حج کے دوران سیدہ عائشہ (رض) حائضہ ہوگئیں تو انھوں نے تمام تر مناسک حج ادا کیے، لیکن بیت اللہ کا طواف نہ کیا تو جب وہ پاک ہوئیں تو پھر طواف کیا اور کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ تو حج و عمرہ دونوں ادا کر کے جائیں اور میں صرف حج ہی کر کے جاؤں ؟ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عبدالرحمن بن ابی بکر کو حکم دیا کہ وہ اسے لے کر تنعیم جائے تو آپ نے حج کے بعد ذوالحجہ میں ہی عمرہ کیا اور سراقہ بن مالک بن جعشم جمرہ عقبہ کے پاس رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ملے اور پوچھا کہ کیا یہ آپ کے لیے خاص ہے ؟ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بلکہ ہمیشہ کے لیے ہے۔