(۸۸۲۲) وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِیُّ حَدَّثَنَا مُحَاضِرٌ حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ عَنْ إِبْرَاہِیمَ عَنِ الأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَتْ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- لاَ نَذْکُرُ حَجًّا وَلاَ عُمْرَۃً فَلَمَّا قَدِمْنَا أَمَرَنَا أَنْ نَحِلَّ فَلَمَّا کَانَ لَیْلَۃُ النَّفْرِ حَاضَتْ صَفِیَّۃُ بِنْتُ حُیَیٍّ فَقَالَ النَّبِیُّ -ﷺ- : ((حَلْقَی عَقْرَی مَا أُرَاہَا إِلاَّ حَابِسَتُکُمْ))- قَالَ - ((ہَلْ کُنْتِ طُفْتِ یَوْمَ النَّحْرِ؟))۔ قَالَتْ : نَعَمْ۔ قَالَ : ((فَانْفِرِی))۔ قَالَتْ قُلْتُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنِّی لَمْ أَکُنْ أَہْلَلْتُ۔ قَالَ : فَاعْتَمِرِی مِنَ التَّنْعِیمِ ۔ قَالَ فَخَرَجَ مَعَہَا أَخُوہَا - قَالَ - فَلَقِیَنَا مُدَّلِجًا فَقَالَ : مَوْعِدُکِ کَذَا وَکَذَا۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدٍ یُقَالُ إِنَّہُ ابْنُ یَحْیَی عَنْ مُحَاضِرٍ إِلاَّ أَنَّہُ قَالَ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- لاَ نَذْکُرُ إِلاَّ الْحَجَّ۔
وَرَوَاہُ عَلِیُّ بْنُ مُسْہِرٍ عَنِ الأَعْمَشِ بِإِسْنَادِہِ قَالَتْ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- نُلَبِّی لاَ نَذْکُرُ حَجًّا وَلاَ عُمْرَۃً۔ [صحیح۔ بخاری ۱۶۸۲]
(٨٨٢٢) (الف) سیدہ عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ نکلے اور ہمیں صرف حج ہی مقصود تھا۔ جب ہم پہنچے تو ہمیں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حلال ہونے کا حکم دے دیا تو جب واپسی کی رات تھی صفیہ بنت حیی حائضہ ہوئیں تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : گنجی اور لنگڑی کہیں کی ! لگتا ہے یہ تمہیں روک دے گی، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا کیا تو نے یوم نحر کو طواف کیا تھا، اس نے کہا جی ہاں، تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : لیس تو نکل عائشہ کہنے لگی، اے اللہ کے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں عمراہ کا تلبیہ نہیں، کیا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تو تنعیم سے عمرہ کرلے تو ان کے ساتھ ان کا بھائی گیا، پس آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہم کو رات کے وقت ملے اور کہا : تمہاری جگہ فلاں فلاں ہے۔
(ب) صحیح بخاری میں راوی محمد سے روایت ہے، اس میں یہ الفاظ ہیں : ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ نکلے اور صرف حج کا تلبیہ کہتے تھے۔
(ج) سیدہ عائشہ (رض) سے روایت ہے کہتی ہیں کہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ نکلے ہم حج اور عمرہ کے تلبیہ کا نام نہیں لیتے تھے۔