(۸۸۴۴) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْن إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا یَحْیَی عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ حَدَّثَنِی نَافِعٌ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ عَنْ حَفْصَۃَ قَالَتْ قُلْتُ لِلنَّبِیِّ -ﷺ- : مَا شَأْنُ النَّاسِ حَلُّوا وَلَمْ تَحِلَّ مِنْ عُمْرَتِکَ؟ قَالَ : ((إِنِّی قَلَّدْتُ ہَدْیِی وَلَبَّدْتُ رَأْسِی فَلاَ أَحِلُّ حَتَّی أَحِلَّ مِنَ الْحَجِّ))۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُسَدَّدٍ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُثَنَّی عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ۔
[صحیح۔ انظر قبلہ]
(٨٨٤٤) سیدہ حفصہ (رض) فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کیا کہ کیا وجہ ہے کہ لوگ حلال ہوگئے ہیں، لیکن آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حلال نہیں ہوئے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں نے اپنی قربانی کو قلادہ پہنایا ہے اور سر کو لیپ دیا ہے، لہٰذا میں اس وقت تک حلال نہیں ہوسکتا ، جب تک حج سے حلال نہ ہوجاؤں۔