(۸۸۴۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ قَالَ
قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ فِی قَوْلِ حَفْصَۃَ لِلنَّبِیِّ -ﷺ- وَلَمْ تَحْلِلْ مِنْ عُمْرَتِکَ - تَعْنِی مِنْ إِحْرَامِکَ الَّذِی ابْتَدَأْتَہُ - وَہُمْ بِنِیَّۃٍ وَاحِدَۃٍ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ فَقَالَ : لَبَّدْتُ رَأْسِی وَقَلَّدْتُ ہَدْیِیَ فَلاَ أَحِلُّ حَتَّی أَنْحَرَ ۔ یَعْنِی وَاللَّہُ أَعْلَمُ حَتَّی یَحِلَّ الْحَاجُّ لأَنَّ الْقَضَائَ نَزَلَ عَلَیْہِ أَنْ یَجْعَلَ مَنْ کَانَ مَعَہُ ہَدْیٌ إِحْرَامَہُ حَجًّا۔ [صحیح]
(٨٨٤٥) امام شافعی فرماتے ہیں کہ سیدہ حفصہ (رض) کی بات کا مقصد یہ ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اور لوگوں نے حج کی ابتداء تو ایک ہی نیت کے ساتھ کی تھی تو اس کا جواب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ دیا کہ جس کے پاس قربانی ہے وہ قربانی کرنے سے پہلے احرام نہیں کھول سکتا۔