hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 8879

.

سنن البيهقي

8879
Sunan Al Bayhaqi
(۸۸۷۶) وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ إِسْمَاعِیلَ الطَّابِرَانِیُّ بِہَا حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مَنْصُورٍ الطُّوسِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ الصَّائِغُ حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَۃَ حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ أَبِی الأَخْضَرِ حَدَّثَنَا ابْنُ شِہَابٍ عَنْ سَالِمٍ قَالَ : کَانَ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ یُفْتِی بِالَّذِی أَنْزَلَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ مِنَ الرُّخْصَۃِ فِی التَّمَتُّعِ وَسَنَّ فِیہِ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فَیَقُولُ نَاسٌ لِعَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ : کَیْفَ تُخَالِفُ أَبَاکَ وَقَدْ نَہَی عَنْ ذَلِکَ ؟ فَیَقُولُ لَہُمْ عَبْدُ اللَّہِ : وَیْلَکُمْ أَلاَ تَتَّقُونَ اللَّہَ أَرَأَیْتُمْ إِنْ کَانَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ نَہَی عَنْ ذَلِکَ یَبْتَغِی فِیہِ الْخَیْرَ وَیَلْتَمِسُ فِیہِ تَمَامَ الْعُمْرَۃِ فَلِمَ تُحَرِّمُونَ وَقَدْ أَحَلَّہُ اللَّہُ وَعَمِلَ بِہِ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- أَفَرَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- أَحَقُّ أَنْ تَتَّبِعُوا سُنَّتَہُ أَمْ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ إِنَّ عُمَرَ لَمْ یَقُلْ لَکَ إِنَّ عُمْرَۃً فِی أَشْہُرِ الْحَجِّ حَرَامٌ وَلَکِنَّہُ قَالَ : إِنَّ أَتَمَّ لِلْعُمْرَۃِ أَنْ تُفْرِدُوہَا مِنْ أَشْہُرِ الْحَجِّ۔ [صحیح لغیرہ۔ مسند احمد ۲/ ۹۵]
(٨٨٧٦) سالم فرماتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر (رض) لوگوں کو وہ فتویٰ دیتے تھے جو اللہ نے تمتع کی رخصت کا دیا ہے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سنت بھی ہے تو لوگوں نے ان سے کہا کہ آپ اپنے والد کی مخالفت کیسے کرتے ہیں حالاں کہ وہ تو اس سے منع کرتے ہیں تو عبداللہ (رض) نے ان سے کہا : تمہارا ستیاناس ! تم اللہ سے ڈرتے نہیں ہو ؟ کیا تم سمجھتے نہیں کہ عمر (رض) نے اس سے منع کیا تھا تو بھلائی اور عمرہ کو مکمل کرنے کے غرض سے اور تم اس کو حرام کیوں قرار دیتے ہو جب کہ اللہ نے اس کو حلال قرار دیا ہے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس پر عمل کیا ہے ، کیا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سنت کی اتباع زیادہ ضروری ہے یا عمر (رض) ؟ عمر (رض) نے حج کے مہینوں میں عمرہ کو حرام نہیں کہا، بلکہ انھوں نے یہ کہا ہے کہ عمرہ زیادہ بہتر طور سے مکمل اس وقت ہوگا، جب تم اس کو حج کے مہینوں کے علاوہ انجام دو گے۔