(۹۰۷۶) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی عَدِیٍّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ قَالَ ذَکَرْتُ لاِبْنِ شِہَابٍ فَقَالَ حَدَّثَنِی سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ : أَنَّ عَبْدَ اللَّہِ یَعْنِی ابْنَ عُمَرَ کَانَ یَصْنَعُ ذَلِکَ یَعْنِی یَقْطَعُ الْخُفَّیْنِ لِلْمَرْأَۃِ الْمُحْرِمَۃِ ثُمَّ حَدَّثَتْہُ صَفِیَّۃُ بِنْتُ أَبِی عُبَیْدٍ أَنَّ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا حَدَّثَتْہَا : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَدْ کَانَ رَخَّصَ لِلنِّسَائِ فِی الْخُفَّیْنِ فَتَرَکَ ذَلِکَ۔
[حسن۔ ابوداود ۱۸۳۱۔ احمد ۶/ ۳۵]
(٩٠٧٦) (الف) سالم بن عبداللہ فرماتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر (رض) محرمہ عورت کے لیے موزے کاٹنے کا حکم دیتے تھے، پھر ان کو صفیہ بنت عبید نے بتایا کہ اسے سیدہ عائشہ (رض) نے بتایا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عورتوں کو موزوں کی رخصت دی ہے تو انھوں نے بھی چھوڑ دیا۔
(ب) ابوداؤد فرماتے ہیں : عبدہ اور محمد بن سلمہ نے ابن اسحاق سے اور نافع سے اس قول تک ذکر کیا ہے : وم اس الورس الزعفران من الثیاب، اس کے بعد والی عبارت دونوں نے ذکر نہیں کی۔