(۹۲) أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ الْقَطَّانُ أَخْبَرَنَا أَبُو الأَزْہَرِ حَدَّثَنَا حَبَّانُ بْنُ ہِلاَلٍ حَدَّثَنَا أَبَانُ حَدَّثَنَا یَحْیَی أَنَّ أَبَا سَلَمَۃَ حَدَّثَہُ أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ زَیْدٍ حَدَّثَہُ: أَنَّ أَبَاہُ شَہِدَ الْمَنْحَرَ عِنْدَ النَّبِیِّ -ﷺ-ہُوَ وَرَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ قَالَ فَقَسَمَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ-بَیْنَ أَصْحَابِہِ ضَحَایَا ، فَلَمْ یُصِبْہُ وَلاَ لِصَاحِبِہِ قَالَ فَحَلَقَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ-رَأْسَہُ فِی ثَوْبِہِ ، فَأَعْطَاہُ فَقَسَمَ مِنْہُ عَلَی رِجَالٍ ، وَقَلَّمَ أَظْفَارَہُ فَأَعْطَی صَاحِبَہُ فَإِنَّہُ عِنْدَنَا لَمَخْضُوبٌ بِالْحِنَّائِ وَالْکَتَمِ۔
(ت) تَابَعَہُ مُوسَی بْنُ إِسْمَاعِیلَ عَنْ أَبَانَ۔ (ق) وَالْخِضَابُ مِنْ عِنْدِہِمْ لِکَیْ لاَ یَتَغَیَّرَ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔
[صحیح۔ أخرجہ أحمد ۴/۴۲]
(٩٢) حضرت محمد بن عبداللہ بن زید بیان کرتے ہیں کہ میرے والدقربان گاہ میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تھے، وہاں ایک انصاری بھی تھا۔ میرے والد فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے ساتھیوں میں قربانی کے جانور تقسیم کیے تو مجھے اور انصاری کو (قربانی) نہ ملی۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک کپڑے پر اپنا سر منڈوایا تو مجھے وہ بال دے دیے، میں نے آدمیوں میں تقسیم کردیے ‘ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے ناخن اتارے اور اپنے ساتھی کو دے دیے، وہ ہمارے پاس بھی ہیں اور وہ مہندی وغیرہ کے ساتھ رنگے ہوئے تھے۔