(۹۱۱۹) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا تَمْتَامٌ حَدَّثَنَا عَیَّاشٌ الرَّقَّامُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَی عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاہِیمَ بْنِ الْحَارِثِ أَنَّ خَالِدَ بْنَ مَعْدَانَ الْکَلاَعِیَّ حَدَّثَہُ عَنْ جُبَیْرِ بْنِ نُفَیْرٍ الْحَضْرَمِیِّ قَالَ : إِنِّی لَجَالِسٌ مَعَ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ بِبَیْتِ الْمَقْدِسِ أَوْ فِی الْمَسْجِدِ إِذْ طَلَعَ رَجُلٌ عَلَیْہِ مُعَصْفَرَۃٌ ثِیَابُہُ فَقَالَ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عَمْرٍو : أَحْرَمْتُ فِی مِثْلِ ہَذَا الثَّوْبِ فَرَآہُ عَلَیَّ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فَنَہَانِی عَنْ لُبْسِہِ ثُمَّ رَجَعْتُ إِلَی الْبَیْتِ فَصَنَعْتُ بِہِ صَنِیعًا وَلَوَدِدْتُ أَنِّی صَنَعْتُ غَیْرَہُ قَالَ قُلْتُ : مَا الَّذِی صَنَعْتَ قَالَ : أَوْقَدْتُ لَہُ تَنُّورًا ثُمَّ طَرَحْتُہُ فِیہِ۔ وَرَوَاہُ عَمْرُو بْنُ شُعَیْبٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ فَأَخْبَرَ أَنَّہُ لاَ بَأْسَ بِذَلِکَ لِلنِّسَائِ۔ [حسن لغیرہ]
(٩١١٩) جبیر بن نفیر حضرمی فرماتے ہیں کہ میں عبداللہ بن عمرو کے ساتھ بیت المقدس یا مسجد میں بیٹھا تھا کہ اچانک ایک آدمی زرد کپڑوں میں آیا تو عبداللہ بن عمرو نے فرمایا : میں نے اس طرح کے کپڑوں میں احرام باندھا تھا تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں مجھ پر دیکھا تو مجھے وہ پہننے سے منع فرمایا ، پھر میں اپنے گھر لوٹا تو ان کپڑوں کا وہ حشر کیا کہ میں چاہتا ہوں کہ وہ کام میں نہ کرنا ، میں نے کہا : آپ نے کیا کیا ؟ کہنے لگے کہ میں نے تندور جلایا اور انھیں اس میں ڈال دیا۔