(۹۱۲۰) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا عِیسَی بْنُ یُونُسَ حَدَّثَنَا ہِشَامُ بْنُ الْغَازِ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ قَالَ : ہَبَطْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- مِنْ ثَنِیَّۃِ أَذَاخِرَ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ فِی صَلاَتِہِ قَالَ : ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَیَّ وَعَلَیَّ رَیْطَۃٌ مُضَرَّجَۃٌ بِعُصْفُرٍ فَقَالَ : مَا ہَذِہِ الرَّیْطَۃُ عَلَیْکَ؟ ۔ فَعَرَفْتُ مَا کَرِہَ فَأَتَیْتُ أَہْلِی وَہُمْ یَسْجُرُونَ تَنُّورًا لَہُمْ فَقَذَفْتُہَا فِیہِ ثُمَّ أَتَیْتُہُ الْغَدَ فَقَالَ : ((یَا عَبْدَ اللَّہِ مَا فَعَلَتِ الرَّیْطَۃُ))۔ فَأَخْبَرْتُہُ قَالَ : ((أَفَلاَ کَسَوْتَہَا بَعْضَ أَہْلِکَ فَإِنَّہُ لاَ بَأْسَ بِذَلِکَ لِلنِّسَائِ))۔ وَاللَّفْظُ لِمُسَدَّدٍ۔
وَکَانَ عَلِیُّ بْنُ أَبِی طَالِبٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یُشِیرُ إِلَی أَنَّہُ یَخْتَصُّ بِالنَّہْیِ عَنْہُ دُونَ غَیْرِہِ۔
[حسن۔ ابوداود ۴۰۶۶۔ ابن ماجہ ۳۶۰۳۔ احمد ۲/ ۱۹۶]
(٩١٢٠) عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ اذاخر نامی ٹیلے سے اترے۔ انھوں نے نماز والی ساری حدیث بیان کی۔۔۔ فرماتے ہیں : پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میری طرف دیکھا اور مجھ پر ایک زرد رنگ سے رنگی ہوئیچادر تھی ۔ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : تجھ پر یہ کیسی چادر ہے تو میں نے سمجھ لیا کہ آپ نے اس کو ناپسند کیا ہے تو میں اپنے گھر آیا اور وہ تندر جلا رہے تھے تو میں نے اس کو اس میں ڈال دیا ، پھر میں اگلے دن آپ کے پاس گیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے عبداللہ ! اس چادر کا کیا بنا ؟ تو میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ساری بات کہہ سنائی، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تو نے اپنے اہل میں سے کسی کو کیوں نہ دے دی کیوں کہ عورتوں کے لیے اس میں کوئی حرج نہیں۔