(۹۱۷۴) وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَۃَ أَخْبَرَنَا أَبُو مَنْصُورٍ : الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَۃَ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ مَنْصُورٍ أَخْبَرَنَا ہُشَیْمٌ أَخْبَرَنَا عَوْفٌ عَنْ زِیَادِ بْنِ حُصَیْنٍ عَنْ أَبِیہِ قَالَ : نَزَلَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عَنْ رَاحِلَتِہِ فَجَعَلَ یَسُوقُہَا وَہُوَ یَرْتَجِزُ وَہُوَ یَقُولُ : وَہُنَّ یَمْشِینَ بِنَا ہَمِیسًا إِنْ تَصَدُقِ الطَّیْرُ نَفْعَلْ لَمِیسًا ذَکَرَ الْجِمَاعَ وَلَمْ یُکْنِ عَنْہُ فَقُلْتُ : یَا أَبَا عَبَّاسٍ تَقُولُ الرَّفَثَ وَأَنْتَ مُحْرِمٌ فَقَالَ : إِنَّمَا الرَّفَثُ مَا رُوجِعَ بِہِ النِّسَائُ۔ [صحیح]
(٩١٧٤) حصین فرماتے ہیں کہ ابن عباس (رض) اپنی اونٹنی سے اترے اور اس کو رجزیہ اشعار پڑھ کر چلانے لگے اور کہہ رہے تھے : اور وہ ہمارے ساتھ بھنبھناتی ہوئی چل رہیں، اگر پرندے نے سچ کہا تو ہم جماع کریں گے۔ انھوں نے جماع کا ذکر فرمایا اور کنایہ نہیں کیا تو میں نے کہا : اے ابن عباس ! آپ رفث کہہ رہے ہیں حالاں کہ آپ محرم ہیں تو انھوں نے فرمایا : رفث وہ ہے جس کے ذریعہ عورتوں کی طرف رجوع کیا جائے۔