(۹۲۳۰۲)أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الأَدِیبُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ أَخْبَرَنِی أَبُو یَعْلَی حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَی حَدَّثَنَا سُفْیَانُ۔
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو عَمْرِو بْنُ أَبِی جَعْفَرٍ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِیہِ۔
قَالَتْ عَائِشَۃُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ لاَ نُرَی إِلاَّ الْحَجَّ فَلَمَّا کُنَّا بِسَرِفَ أَوْ قَرِیبًا مِنْہُ حِضْتُ فَدَخَلَ عَلَیَّ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ وَأَنَا أَبْکِی فَقَالَ : ((مَا لَکِ، أَنُفِسْتِ؟)) ۔ فَقُلْتُ : نَعَمْ، فَقَالَ : ((إِنَّ ہَذَا أَمْرٌ کَتَبَہُ اللَّہُ عَلَی بَنَاتِ آدَمَ فَاقْضِی مَا یَقْضِی الْحَاجُّ غَیْرَ أَنْ لاَ تَطُوفِی بِالْبَیْتِ حَتَّی تَغْتَسِلِی))۔ فَلَمَّا کُنَّا بِمِنًی ضَحَّی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ عَنْ نِسَائِہِ بِالْبَقَرِ۔
لَفْظُ حَدِیثِ أَبِی عَمْرٍو وَفِی رِوَایَۃِ أَبِی عَبْدِ اللَّہِ قَالَ عَنِ الْقَاسِمِ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا وَلَم یَذْکُرْ قَوْلَہَا حِضْتُ وَلاَ قَوْلَہَا فَلَمَّا کُنَّا بِمِنًی قَالَتْ وَضَحَّی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ عَنْ نِسَائِہِ الْبَقَرَ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَلِیٍّ وَغَیْرِہِ عَنِ ابْنِ عُیَیْنَۃَ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ وَغَیْرِہِ۔
[صحیح۔ بخاری ۲۹۰۔ مسلم ۱۲۱۱]
(٩٣٠٢) (الف) سیدہ عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ ہم نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ نکلے اور ہمیں صرف حج کا ہی علم تھا تو جب ہم مقام ِسرف پر پہنچے یا اس کے قریب ہی تھے تو میں حائضہ ہوگئی ۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میرے پاس آئے اور میں رو رہی تھی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تجھے کیا ہوا، حائضہ ہوگئی ہے ؟ میں نے کہا : ہاں، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس معاملہ کو اللہ نے بنات آدم پر لکھ دیا ہے جو کچھ حاجی کرتے ہیں وہی کر ، سوائے بیت اللہ کے طواف کے حتیٰ کہ غسل کرلے۔ جب ہم منیٰ میں تھے تو رسول اللہ (رض) نے تمام بیویوں کی طرف سے گائے ذبح فرمائی۔
(ب) ابوعبداللہ کی سیدہ عائشہ (رض) سے روایت ہے، اس میں حضت کا ذکر نہیں ہے اور نہ ان الفاظ کا : فَلَمَّا کُنَّا بِمنًی۔۔۔ مزید فرماتی ہیں : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی بیویوں کی طرف سے گائے ذبح کی۔