(۹۳۱۵)أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا : یَحْیَی بْنُ إِبْرَاہِیمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ مُحَمَّدٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ قَالاَ حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ حَدَّثَنَا الأَشْعَثُ بْنُ سُلَیْمٍ عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ یَزِیدَ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَتْ : سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ عَنِ الْجُدْرِ أَمِنَ الْبَیْتِ ہِیَ؟ قَالَ : ((نَعَم))۔ قُلْتُ : فَمَا لَہُمْ لَمْ یُدْخِلُوہُ فِی الْبَیْتِ؟ فَقَالَ :(( إِنَّ قَوْمَکِ قَصَّرَتْ بِہِمُ النَّفَقَۃُ ))۔ قُلْتُ : فَمَا شَأْنُ بَابِہِ مُرْتَفِعٌ؟ قَالَ: ((فَعَلَ ذَلِکَ قَوْمُکِ لِیُدْخِلُوا مَنْ شَائُ وا وَیَمْنَعُوا مَنْ شَائُ وا وَلَوْلاَ أَنَّ قَوْمَکِ حَدِیثُ عَہْدٍ بِجَاہِلِیَّۃٍ فَأَخَافُ أَنْ تُنْکِرَ قُلُوبُہُمْ لَنَظَرْتُ أَنْ أُدْخِلَ الْجُدْرَ فِی الْبَیْتِ وَأَنْ أُلْصِقَ بَابَہُ بِالأَرْضِ))۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُسَدَّدٍ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ سَعِیدِ بْنِ مَنْصُورٍ عَنْ أَبِی الأَحْوَصِ۔
[صحیح۔ بخاری ۱۵۰۷۔ مسلم ۱۳۳۳]
(٩٣١٥) سیدہ عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا کہ کیا دیوار بیت اللہ میں سے ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہاں ! میں نے کہا : کیا وجہ ہے انھوں نے اسے بیت اللہ میں داخل نہیں کیا ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تیری قوم کے پاس خرچہ کم ہوگیا تھا، میں نے کہا : کیا وجہ ہے کہ اس کا دروازہ اونچا ہے ؟ آپ نے فرمایا : تیری قوم نے یہ اس لیے کیا ہے تاکہ جس کو چاہیں اندر داخل ہونے دیں اور جس کو چاہیں روک لیں اور اگر تیری قوم جاہلیت کے ساتھ تازہ تعلق والی نہ ہوتی اور ان کے دلوں میں برائی کا خوف نہ ہوتا تو میرا خیال تھا کہ دیوارکو بیت اللہ میں داخل کردیا جائے اور اس کا دروازہ زمین کے ساتھ لگا دیا جائے۔