(۹۳۳۷)وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو عَمْرٍو الْمُقْرِئُ وَأَبُو بَکْرٍ الْوَرَّاقُ قَالاَ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا ہِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ قَالاَ حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِیہِ قَالَ : دَخَلْنَا عَلَی جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ فِی حَجِّ النَّبِیِّ -ﷺ قَالَ : ثُمَّ خَرَجَ مِنَ الْبَابِ إِلَی الصَّفَا حَتَّی إِذَا دَنَا مِنَ الصَّفَا قَرَأَ: {إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّہِ} ((أَبْدَأُ بِمَا بَدَأَ اللَّہُ بِہِ)) فَبَدَأَ بِالصَّفَا فَرَقِیَ عَلَیْہِ حَتَّی إِذَا رَأَی الْبَیْتَ فَکَبَّرَ اللَّہَ وَہَلَّلَہُ وَقَالَ : ((لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ وَحْدَہُ لاَ شَرِیکَ لَہُ لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ یُحْیِی وَیُمِیتُ وَہُوَ عَلَی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ وَحْدَہُ أَنْجَزَ وَعْدَہُ وَنَصَرَ عَبْدَہُ وَہَزَمَ الأَحْزَابَ وَحْدَہُ ))۔ ثُمَّ دَعَا بَیْنَ ذَلِکَ وَقَالَ مِثْلَ ذَلِکَ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ نَزَلَ إِلَی الْمَرْوَۃِ حَتَّی إِذَا انْصَبَّتْ قَدَمَاہُ رَمَلَ فِی بَطْنِ الْوَادِی حَتَّی إِذَا صَعِدَ مَشَی حَتَّی أَتَی الْمَرْوَۃَ فَفَعَلَ عَلَی الْمَرْوَۃِ کَمَا فَعَلَ عَلَی الصَّفَا حَتَّی کَانَ آخِرُ الطَّوَافِ عَلَی الْمَرْوَۃِ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ دُونَ قَوْلِہِ : یُحْیِی وَیُمِیتُ۔ [صحیح۔ مسلم ۱۲۱۸]
(٩٣٣٧) جابر بن عبداللہ (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دروازے سے صفا کی طرف نکلے حتیٰ کہ جب صفا کے قریب ہوئے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ آیت پڑھی ” صفا ومروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں “ ، میں وہیں سے شروع کروں گا جہاں سے اللہ نے شروع کیا ہے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صفا سے شروع کیا اس پر چڑھے حتیٰ کہ جب بیت اللہ کو دیکھا توتکبیر وتہلیل کہی اور فرمایا : اللہ کے علاوہ اور کوئی الٰہ نہیں ہے وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں ، اسی کے لیے حمد ہے اور اسی کے لیے بادشاہی ہے وہ زندہ کرتا اور مارتا ہے، اور وہ ہر چیز پر خوب قدرت رکھتا ہے اللہ کے علاوہ کوئی الٰہ نہیں ہے وہ اکیلا ہے اس نے اپنا وعدہ پورا کیا، اپنے بندے کی مدد کی اور اکیلے نے ہی تمام لشکروں کو شکست دی۔ پھر اس کے درمیان دعا کی اور اس طرح تین مرتبہ کیا پھر مروہ کی طرف آئے حتیٰ کہ جب آپ کے پاؤں وادی میں لگے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سعی کی حتیٰ کہ جب چڑھنے کو چلے اور مروہ پر آئے تو مروہ پر بھی ویسے ہی کیا جس طرح صفا پر کیا تھا، حتیٰ کہ طواف کا آخر مروہ پر تھا۔