(۹۳۷۸) فَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرْنِی أَبُو بَکْرِ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ قَالَ وَأَخْبَرَنِی مُحَمَّدُ بْنُ أَبِی جَعْفَرٍ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَی قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو کَامِلٍ الْجَحْدَرِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِیَادٍ حَدَّثَنَا الْجُرَیْرِیُّ عَنْ أَبِی الطُّفَیْلِ قَالَ قُلْتُ لاِبْنِ عَبَّاسٍ : أَرَأَیْتَ ہَذَا الرَّمَلَ بِالْبَیْتِ ثَلاَثَۃَ أَطْوَافٍ وَمَشْیَ أَرْبَعَۃٍ أَسُنَّۃٌ ہُوَ فَإِنَّ قَوْمَکَ یَزْعُمُونَ أَنَّہُ سُنَّۃٌ قَالَ فَقَالَ : صَدَقُوا وَکَذَبُوا قَالَ قُلْتُ : مَا قَوْلُکَ صَدَقُوا وَکَذَبُوا قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ قَدِمَ مَکَّۃَ فَقَالَ الْمُشْرِکُونَ : إِنَّ مُحَمَّدًا وَأَصْحَابَہُ لاَ یَسْتَطِیعُونَ أَنْ یَطُوفُوا بِالْبَیْتِ مِنَ الْہُزْلِ قَالَ وَکَانُوا یَحْسُدُونَہُ قَالَ فَأَمَرَہُمْ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ أَنْ یَرْمُلُوا ثَلاَثًا وَیَمْشُوا أَرْبَعًا قَالَ قُلْتُ أَخْبِرْنِی عَنِ الطَّوَافِ بَیْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ رَاکِبًا أَسُنَّۃٌ ہُوَ فَإِنَّ قَوْمَکَ یَزْعُمُونَ أَنَّہُ سُنَّۃٌ۔ قَالَ : صَدَقُوا وَکَذَبُوا قَالَ قُلْتُ مَا قَوْلُکَ صَدَقُوا وَکَذَبُوا۔
قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ کَثُرَ عَلَیْہِ النَّاسُ یَقُولُونَ ہَذَا مُحَمَّدٌ حَتَّی خَرَجْنَ الْعَوَاتِقُ مِنَ الْبُیُوتِ قَالَ وَکَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ لاَ یُضْرَبُ النَّاسُ بَیْنَ یَدَیْہِ قَالَ فَلَمَّا کَثُرَ عَلَیْہِ رَکِبَ وَالْمَشْیُ وَالسَّعْیُ أَفْضَلُ۔ لَفْظُ عِمْرَانَ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی کَامِلٍ الْجَحْدَرِیِّ۔
(٩٣٧٨) ابوطفیل فرماتے ہیں کہ میں نے ابن عباس (رض) کو کہا : آپ کا کیا خیال ہے کہ بیت اللہ کا طواف تین چکر رمل اور چار چل کر سنت ہے ؟ آپ کی قوم تو سمجھتی ہے کہ یہ سنت ہے تو انھوں نے کہا : انھوں نے سچ کہا ہے اور جھوٹ کہا ہے۔ میں نے کہا کہ سچ اور جھوٹ کہنے کا کیا مطلب ؟ تو انھوں نے کہا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مکہ تشریف لائے تو مشرکوں نے کہا کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ان کے ساتھی کمزوری کی وجہ سے بیت اللہ کا طواف نہ کرسکیں گے اور وہ اس پر حسد کرتے تھے تو ان کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حکم دیا کہ تین چکر رمل کریں اور چار چل کر لگائیں، کہتے ہیں کہ میں نے کہا : مجھے طواف کے بارے میں بتاؤ۔ صفا مروہ کے درمیان کیا یہ سوار ہو کر کرنا سنت ہے آپ کی قوم تو یہی سمجھتی ہے کہ یہ سنت ہے، انھوں نے کہا کہ انھوں نے سچ کہا ہے اور جھوٹ بھی، میں نے کہا : آپ کے یہ کہنے کا کیا مقصد کہ سچ اور جھوٹ کہا ہے ؟ تو وہ کہنے لگے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر لوگ زیادہ ہوگئے تھے اور کہتے تھے : یہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں حتیٰ کہ لڑکیاں بھی گھروں سے نکلیں اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے سے لوگوں کو ہٹایا نہ جاتا تھا۔ جب وہ زیادہ ہوگئے تو سوار ہوگئے اور چلنا اور سعی کرنا افضل ہے۔ [صحیح۔ مسلم ١٢٦٤)