(۹۳۸۴) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الأَصَمُّ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ عَنْ أَبِیہِ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ أَمَرَ أَصْحَابَہُ أَنْ یُہَجِّرُوا بِالإِفَاضَۃِ وَأَفَاضَ فِی نِسَائِہِ لَیْلاً عَلَی رَاحِلَتِہِ یَسْتَلِمُ الرُّکْنَ بِمِحْجَنِہِ أَحْسِبُہُ قَالَ وَیُقَبِّلُ طَرَفَ الْمِحْجَنِ۔
قَالَ الشَّیْخُ : وَالَّذِی رُوِیَ عَنْہُ أَنَّہُ طَافَ بَیْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ رَاکِبًا فَإِنَّمَا أَرَادَ وَاللَّہُ أَعْلَمُ فِی سَعْیِہِ بَعْدَ طَوَافِ الْقُدُومِ فَأَمَّا بَعْدَ طَوَافِ الإِفَاضَۃِ فَلَمْ یُحْفَظْ عَنْہُ أَنَّہُ طَافَ بَیْنَہُمَا۔
[ضعیف۔ احمد ۳/ ۴۱۳۔ ترمذی ۹۰۳۔ نسائی ۳۰۶۱۱]
(٩٣٨٤) طاؤس کہتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے صحابہ کو حکم دیا کہ صبح کو جلد ہی طواف افاضہ کریں اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے رات کے وقت اپنی ازواج سمیت اونٹ پر سوار ہو کر افاضہ کیا ، آپ حجر اسود کو اپنی لاٹھی کے ساتھ چھوتے اور اس کے کنارے کو بوسہ دیتے تھے۔
شیخ فرماتے ہیں : جو یہ بیان کیا گیا ہے کہ آپ نے صفا و مروہ کے درمیان طواف سواری پر کیا تو ان کی مراد۔ واللہ اعلم
اس سعی میں ہے جو طواف قدوم یا طواف افاضہ کے بعد ہے۔ آپ سے یہ منقول نہیں کہ آپ نے ان دونوں کے درمیان طواف کیا۔ واللہ اعلم