(۹۴۰۸)أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ وَأَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ وَأَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یَحْیَی بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّکَّرِیُّ قَالُوا أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ عَنْ عُمَرَ بْنِ ذَرٍّ عَنْ مُجَاہِدٍ قَالَ : کَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یُلَبِّی فِی الْعُمْرَۃِ حَتَّی یَسْتَلِمَ الْحَجَرَ ثُمَّ یَقْطَعُ۔
قَالَ : وَکَانَ ابْنُ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یُلَبِّی فِی الْعُمْرَۃِ حَتَّی إِذَا رَأَی بُیُوتَ مَکَّۃَ تَرَکَ التَّلْبِیَۃَ وَأَقْبَلَ عَلَی التَّکْبِیرِ وَالذِّکْرِ حَتَّی یَسْتَلِمَ الْحَجَرَ۔ [صحیح]
(٩٤٠٨) مجاہد کہتے ہیں کہ ابن عباس (رض) عمرہ میں تلبیہ کہتے تھے ، حتیٰ کہ حجر اسود استلام کا فرماتے ، پھر چھوڑ دیتے اور ابن عمر (رض) عمرہ میں تلبیہ کہتے، حتیٰ کہ جب مکہ کے گھر دیکھتے تو تلبیہ چھوڑ دیتے اور تکبیر اور ذکر شروع کردیتے ، حتیٰ کہ حجر اسود کو چھوتے۔