(۹۴۲۴) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ بْنِ الْحَسَنِ الْفَقِیہُ بِبَغْدَادَ إِمْلاَئً مِنْ أَصْلِ کِتَابِہِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبِ بْنِ حَرْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ مَالِکُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ ہِشَامٍ حَدَّثَنِی أَبِی عَنْ مَطَرٍ الْوَرَّاقِ عَنْ أَبِی الزُّبَیْرِ عَنْ جَابِرٍ : أَنَّ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا فِی حَجَّۃِ النَّبِیِّ -ﷺ أَہَلَّتْ بِعُمْرَۃٍ فَلَمَّا کَانَتْ بِسَرِفَ حَاضَتْ فَاشْتَدَّ ذَلِکَ عَلَیْہَا فَقَالَ النَّبِیُّ -ﷺ :(( إِنَّمَا أَنْتِ مِنْ بَنَاتِ آدَمَ یُصِیبُکِ مَا أَصَابَہُم ))۔ فَلَمَّا قَدِمَتِ الْبَطْحَائَ أَمَرَہَا نَبِیُّ اللَّہِ -ﷺ فَأَہَلَّتْ بِالْحَجِّ فَلَمَّا قَضَتْ نُسُکَہَا وَجَائَ تْ إِلَی الْحَصْبَائِ أَرَادَتْ أَنْ تَعْتَمِرَ فَقَالَ لَہَا النَّبِیُّ -ﷺ : ((إِنَّکِ قَدْ قَضَیْتِ حَجَّکِ وَعُمْرَتَکِ))۔ وَکَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ رَجُلاً سَہْلاً إِذَا ہَوِیَتِ الشَّیْئَ تَابَعَہَا عَلَیْہِ قَالَ مَطَرٌ قَالَ أَبُو الزُّبَیْرِ : وَکَانَتْ عَائِشَۃُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا إِذَا حَجَّتْ صَنَعَتْ کَمَا صَنَعَتْ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی غَسَّانَ مَالِکِ بْنِ عَبْدِ الْوَاحِدِ۔ [صحیح۔ مسلم ۱۲۱۳]
(٩٤٢٤) جابر (رض) فرماتے ہیں کہ سیدہ عائشہ (رض) نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) والے حج میں عمرہ کا تلبیہ کہا۔ جب سرف تک پہنچیں تو حائضہ ہوگئیں ۔ یہ بات ان کو ناگوار گزری تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تو بنات آدم میں سے ہے تجھے بھی وہی کچھ ہوتا ہے جو ہوتا ہے۔ جب وہ بطحاء پہنچی تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کو حکم دیا ، انھوں نے حج کا تلبیہ کہا اور جب تمام مناسک ادا کرلیے تو حصباء میں آئیں اور عمرہ کا ارادہ کیا تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تو نے اپنا حج اور عمرہ کرلیا ہے اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نرم آدمی تھے ، جب کچھ آسان ہوتا تو اسی کو لے لیتے۔