(۹۴۲۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو بَکْرِ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ نُمَیْرٍ حَدَّثَنَا أَبِی حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ عَنْ نَافِعٍ قَالَ : أَرَادَ ابْنُ عُمَرَ الْحَجَّ حِینَ نَزَلَ الْحَجَّاجُ بِابْنِ الزُّبَیْرِ فَکَلَّمَہُ ابْنَاہُ سَالِمٌ وَعَبْدُ اللَّہِ فَقَالاَ : لاَ یَضُرُّکَ أَنْ لاَ تَحُجَّ الْعَامَ إِنَّا نَخَافُ أَنْ یَکُونَ بَیْنَ النَّاسِ قِتَالٌ فَیُحَالَ بَیْنَکَ وَبَیْنَ الْبَیْتِ۔ قَالَ : إِنْ حِیلَ بَیْنِی وَبَیْنَ الْبَیْتِ فَعَلْتُ کَمَا فَعَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ حِینَ حَالَتْ کُفَّارُ قُرَیْشٍ بَیْنَہُ وَبَیْنَ الْبَیْتِ فَحَلَقَ وَرَجَعَ وَإِنِّی أُشْہِدُکُمْ أَنِّی قَدْ أَوْجَبْتُ عُمْرَۃً ثُمَّ خَرَجَ إِلَی الشَّجَرَۃِ فَلَبَّی بِعُمْرَۃٍ حَتَّی إِذَا أَشْرَفَ بِظَہْرِ الْبَیْدائِ قَالَ : مَا أَمْرُہُمَا إِلاَّ وَاحِدٌ إِنْ حِیلَ بَیْنِی وَبَیْنَ الْعُمْرَۃِ حِیلَ بَیْنِی وَبَیْنَ الْحَجِّ اشْہَدُوا أَنِّی قَدْ أَوْجَبْتُ حَجَّۃً مَعَ عُمْرَتِی قَالَ وَلَیْسَ مَعَہُ یَوْمَئِذٍ ہَدْیٌ فَسَارَ حَتَّی بَلَغَ قُدَیْدَ ابْتَاعَ بِہَا ہَدْیًا فَقَلَّدَہُ وَأَشْعَرَہُ وَسَاقَہُ مَعَہُ حَتَّی إِذَا دَخَلَ مَکَّۃَ طَافَ لَہُمَا طَوَافًا وَاحِدًا بِالْبَیْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ وَکَانَ یَقُولُ : مَنْ جَمَعَ بَیْنَ الْحَجِّ وَالْعُمْرَۃِ کَفَاہُ طَوَافٌ وَاحِدٌ وَلَمْ یَحِلَّ حَتَّی یَحِلَّ مِنْہُمَا جَمِیعًا۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ نُمَیْرٍ۔ [صحیح۔ مسلم ۱۲۳۰]
(٩٤٢٥) نافع کہتے ہیں کہ جب حجاج ابن زبیر (رض) کے پاس آیا اور ابن عمر (رض) نے حج کا ارادہ کیا تھا تو ان کے بیٹوں سالم اور عبداللہ نے ان سے کہا کہ اگر آپ اس سال حج نہ بھی کریں تو کوئی فرق نہیں پڑتا ۔ ہمیں خدشہ ہے کہ لوگوں کے درمیان لڑائی شروع ہوجائے گی تو وہ آپ کے اور بیت اللہ کے درمیان حائل ہوجائیں گے۔ وہ کہنے لگے : اگر میرے اور بیت اللہ کے درمیان حائل ہوا گیا تو میں ویسے ہی کروں گا جس طرح ہم نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ کیا تھا جب قریش آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اور بیت اللہ کے درمیان حائل ہوگئے تھے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سر منڈوایا اور واپس آگئے اور میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے عمرہ کا ارادہ کیا ہے، پھر درخت کے پاس گئے اور عمرہ کا تلبیہ کہا حتیٰ کہ جب بیداء پر چڑھے تو کہنے لگے کہ معاملہ تو دونوں کا ایک سا ہی ہے۔ اگر میرے اور عمرہ کے درمیان حائل ہوگیا تو میرے اور حج کے درمیان حائل ہوا گیا۔ گواہ ہوجاؤ میں نے اپنے عمرے کے ساتھ ساتھ حج کی نیت بھی کرلی ہے۔ کہتے ہیں کہ اس وقت ان کے پاس قربانی نہ تھی، وہ چلے حتیٰ کہ قدید پہنچے، وہاں سے قربانی خریدی اس کو قلادہ پہنایا اور اشعار کیا اور اس کو اپنے ساتھ لے گئے، حتیٰ کہ جب مکہ داخل ہوئے تو ان دونوں (حج و عمرہ) کے لیے ایک ہی طواف کیا بیت اللہ کا بھی اور صفا ومروہ کا بھی اور وہ فرماتے تھے جو حج و عمرہ کو جمع کرے اس کو ایک ہی طواف کافی ہے اور وہ حلال نہ ہوے حتیٰ کہ دونوں سے حلال ہوئے۔