(۹۴۵۶)أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الأَدِیبُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو عِمْرَانَ : إبْرَاہِیمُ بْنُ ہَانِئٍ حَدَّثَنَا الرَّمَادِیُّ حَدَّثَنَا ابْنُ بُکَیْرٍ وَأَبُو صَالِحٍ أَنَّ اللَّیْثَ حَدَّثَہُمَا قَالَ حَدَّثَنِی عُقَیْلٌ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ قَالَ أَخْبَرَنِی سَالِمٌ : أَنَّ الْحَجَّاجَ سَأَلَ ابْنَ عُمَرَ کَیْفَ یَصْنَعُ فِی الْمَوْقِفِ یَوْمَ عَرَفَۃَ قَالَ سَالِمٌ إِنْ کُنْتَ تُرِیدُ السُّنَّۃَ فَہَجِّرْ بِالصَّلاَۃِ یَوْمَ عَرَفَۃَ فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ : صَدَقَ إِنَّہُمْ کَانُوا یَجْمَعُونَ بَیْنَ الظُّہْرِ وَالْعَصْرِ یَوْمَ عَرَفَۃَ فِی السُّنَّۃِ قَالَ ابْنُ شِہَابٍ فَقُلْتُ لِسَالِمٍ أَفَعَلَ ذَلِکَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ قَالَ سَالِمٌ : وَہَلْ یَتَّبِعُونَ إِلاَّ سُنَّتَہُ۔ أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ فَقَالَ وَقَالَ اللَّیْثُ۔ وَرُوِّینَا عَنْ نَافِعٍ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ کَانَ یَجْمَعُ بَیْنَہُمَا إِذَا فَاتَہُ مَعَ الإِمَامِ یَوْمَ عَرَفَۃَ۔ وَعَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ عَنْ عَطَائٍ إِنْ شَائَ جَمَعَ وَإِنْ شَائَ فَرَّقَ۔ [صحیح۔ نسائی ۳۰۰۹]
(٩٤٥٦) سالم فرماتے ہیں کہ حجاج نے ابن عمر سے پوچھا کہ عرفہ کے دن موقف میں کیسے کیا جائے ؟ سالم نے فرمایا : اگر تو سنت چاہتا ہے تو عرفہ کے دن صبح کی نماز جلدی پڑھ تو ابن عمر (رض) نے فرمایا : اس نے سچ کہا ہے کہ وہ ظہر اور عصر کو سنت کے مطابق عرفہ کے دن جمع کرتے تھے، ابن شہاب فرماتے ہیں : میں نے سالم سے عرض کیا : کیا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایسا کیا ہے ؟ سالم نے فرمایا : وہ تو صرف آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہی کی سنت کا اتباع کرتے تھے۔