(۹۴۸۴)أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ الْقَاضِی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ کَثِیرٍ أَخْبَرَنَا سُفْیَانُ بْنُ سَعِیدٍ عَنِ الأَعْمَشِ عَنِ الْحَکَمِ عَنْ مِقْسَمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : أَفَاضَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ مِنْ عَرَفَۃَ وَعَلَیْہِ السَّکِینَۃُ وَرَدِیفُہُ أُسَامَۃُ فَقَالَ : أَیُّہَا النَّاسُ عَلَیْکُمْ بِالسَّکِینَۃِ فَإِنَّ الْبِرَّ لَیْسَ بِإِیجَافِ الْخَیْلِ وَالإِبِلِ ۔ قَالَ : فَمَا رَأَیْتُہَا رَافِعَۃً یَدَیْہَا عَادِیَۃً حَتَّی أَتَی جَمْعًا۔
[صحیح۔ ابوداود ۱۹۳۰۔ طیالسی: ۲۷۰۲]
(٩٤٨٤) ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عرفہ سے انتہائی آرام و سکون کے ساتھ لوٹے اور آپ کے پیچھے اسامہ بیٹھے تھے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے لوگو ! تم سکون کو لازم پکڑو ، نیکی اونٹ گھوڑے دوڑانے سے نہیں ہے۔
فرماتے ہیں : پس میں نے (آپ کی سواری) کو نہیں دیکھا کہ وہ پاؤں کو اٹھا کر چلتی ہو (یعنی دوڑتی ہو) حتیٰ کہ آپ منیٰ پہنچ گئے۔