(۹۵۰) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الأَصْبَہَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو الْعِرَاقِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ الْحَسَنِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ الْوَلِیدِ عَنْ سُفْیَانَ عَنْ بَیَانٍ عَنِ الْحَسَنِ قَالَ : شَیْطَانُ الْوُضُوئِ یُدْعَی الْوَلْہَانُ یَضْحَکُ بِالنَّاسِ فِی الْوُضُوئِ۔
وَعَنْ سُفْیَانَ عَنْ یُونُسَ قَالَ : کَانَ یُقَالُ إِنَّ لِلْمَائِ وَسْوَاسًا ، فَاتَّقُوا وَسْوَاسَ الْمَائِ۔
وَعَنْ سُفْیَانَ عَنْ حُصَیْنٍ عَنْ ہِلاَلِ بْنِ یَسَافٍ قَالَ : کَانَ یُقَالُ فِی کُلِّ شَیْئٍ إِسْرَافٌ حَتَّی فِی الطَّہُورِ وَإِنْ کَانَ عَلَی شَاطِئِ النَّہَرِ۔
ہَکَذَا رَوَاہُ غَیْرُ خَارِجَۃَ بْنِ مُصْعَبٍ عَنِ الْحَسَنِ وَیُونُسَ بْنِ عُبَیْدٍ۔
وَخَارِجَۃُ یَنْفَرِدُ بِرِوَایَتِہِ مُسْنَدًا وَلَیْسَ بِالْقَوِیِّ فِی الرِّوَایَۃِ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔
وَقَدْ رُوِیَ بِإِسْنَادٍ آخَرَ ضَعِیفٍ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ مَرْفُوعًا یَعْنِی مَا رُوِّینَا عَنْ یُونُسَ بْنِ عُبَیْدٍ۔
[ضعیف۔ أخرجہ ابن أبی الدنیا فی مصائد الشیطان ۲۹]
(٩٥٠) (الف) حسن سے روایت ہے کہ وضو کا شیطان ہے جس کو ولہانکہا جاتا ہے یہ وضو میں لوگوں کو ہنساتا ہے۔
(ب) یونس کہتے ہیں کہ پانی کیلئے وسوسہ ہے لہٰذاپانی کے وسوسہ سے بچو۔
(ج) ہلا ل بن یساف کہتے ہیں کہ ہر چیز میں اسراف ہے یہاں تک کہ وضو میں بھی ہے، اگرچہ نہر کے کنارے پر ہو۔ (د) اسی طرح خارج بن مصعب کے علاوہ بھی دوسروں نے حسن اور یونس بن عبید سے روایت کیا ہے۔ خارج اپنی سند سے روایت کرنے میں منفرد ہے وہ روایت کرنے میں مضبوط راوی نہیں۔ واللہ اعلم