(۹۴۹۳)أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا : یَحْیَی بْنُ إِبْرَاہِیمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی وَأَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی مَالِکُ بْنُ أَنَسٍ وَابْنُ أَبِی ذِئْبٍ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ عَنْ أَبِیہِ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ صَلَّی الْمَغْرِبَ وَالْعِشَائَ بِالْمُزْدَلِفَۃِ جَمِیعًا قَالَ ابْنُ أَبِی ذِئْبٍ فِی الْحَدِیثِ : لَمْ یُنَادِ فِی کُلِّ وَاحِدَۃٍ مِنْہُمَا إِلاَّ بِإِقَامَۃٍ وَلَمْ یُسَبِّحْ بَیْنَہُمَا وَلاَ عَلَی أَثَرِ وَاحِدَۃٍ مِنْہُمَا۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ آدَمَ بْنِ أَبِی إِیَاسٍ عَنِ ابْنِ أَبِی ذِئْبٍ وَقَالَ فِی الْحَدِیثِ : جَمَعَ الْمَغْرِبَ وَالْعِشَائَ بِجَمْعٍ کُلِّ وَاحِدَۃٍ مِنْہُمَا بِإِقَامَۃٍ۔ [صحیح۔ بخاری ۱۵۸۹]
(٩٤٩٣) ابن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مغرب اور عشاء مزدلفہ میں جمع کیں اور ان دونوں کے درمیان اذان نہیں دی ، صرف اقامت ہی کہی اور دونوں کے درمیان کوئی نفل نماز نہیں پڑھی اور نہ بعد میں۔
امام بخاری (رح) نے اپنی صحیح میں ابن ابی ذوئب سے روایت نقل کی ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مغرب اور عشاء کو اکٹھا کیا ہر ایک کے لیے الگ الگ اقامت کہی۔