(۹۵۱۳)أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنِی أَبُو جَعْفَرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ ہَانِئٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الْحَرَشِیُّ حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِیُّ أَخْبَرَنَا أَفْلَحُ بْنُ حُمَیْدٍ عَنِ الْقَاسِمِ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا أَنَّہَا قَالَتْ : اسْتَأْذَنَتْ سَوْدَۃُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ لَیْلَۃَ الْمُزْدَلِفَۃِ أَنْ تَدْفَعَ قَبْلَہُ وَقَبْلَ حَطْمَۃِ النَّاسِ وَکَانَتِ امْرَأَۃً ثَبِطَۃً وَالثَّبِطَۃُ : الثَّقِیلَۃُ یَقُولُہُ الْقَاسِمُ قَالَتْ : فَأَذِنَ لَہَا فَخَرَجَتْ قَبْلَ دَفْعَۃِ النَّاسِ وَحَبَسَنَا حَتَّی أَصْبَحْنَا فَدَفَعْنَا بِدَفْعِہِ وَلأَنْ أَکُونَ اسْتَأْذَنْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ کَمَا اسْتَأْذَنَتْ سَوْدَۃُ فَأَکُونُ أَدْفَعُ بِإِذْنِہِ قَبْلَ النَّاسِ أَحَبُّ إِلَیَّ مِنْ مَفْرُوحٍ بِہِ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی نُعَیْمٍ عَنْ أَفْلَحَ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنِ الْقَعْنَبِیِّ۔
[صحیح۔ بخاری ۱۵۹۷۔ مسلم ۱۲۹۰]
(٩٥١٣) سیدہ عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ سودہ (رض) بھاری بھری کم عورت تھی اس نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اجازت مانگی کہ وہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور لوگوں کی بھیڑ سے پہلے چلی جائے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو اجازت دے دی اور ہمیں روکے رہے حتیٰ کہ ہم نے صبح کی اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ہی گئے اور اگر میں بھی سودہ کی طرح اجازت مانگ لیتی اور آپ کی اجازت سے لوگوں سے پہلے چلی جاتی تو یہ بات میرے لیے ہر خوشی سے زیادہ محبوب تھی۔