(۹۵۱۴)وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو مُحَمَّدِ بْنُ أَبِی حَامِدٍ الْمُقْرِئُ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ عَفَّانَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَیْدٍ الطَّنَافِسِیُّ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَتْ : وَدِدْتُ أَنِّی کُنْتُ اسْتَأْذَنْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ کَمَا اسْتَأْذَنَتْہُ سَوْدَۃُ فَأُصَلِّی الصُّبْحَ بِمِنًی وَأَرْمِی الْجَمْرَۃَ قَبْلَ أَنْ یَجِیئَ النَّاسُ۔ فَقَالُوا لِعَائِشَۃَ : وَاسْتَأْذَنَتْ سَوْدَۃُ۔ قَالَتْ : نَعَمْ إِنَّہَا کَانَتِ امْرَأَۃً ثَقِیلَۃً ثَبِطَۃً فَأَذِنَ لَہَا۔
أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ عُبَیْدِ اللَّہِ وَقَدْ أَخْرَجَاہُ مُخْتَصَرًا مِنْ حَدِیثِ الثَّوْرِیِّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ۔ [صحیح۔ بخاری ۱۵۹۶]
(٩٥١٤) سیدہ عائشہ (رض) فرماتی ہیں : میں چاہتی تھی کہ میں بھی سودہ کی طرح نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اجازت لے لیتی اور صبح کی نماز منیٰ میں پڑھتی اور لوگوں کے آنے سے پہلے جمرہ کو مار لیتی۔ لوگوں نے پوچھا : سودہ نے اجازت لی تھی ؟ انھوں نے کہا : ہاں وہ موٹی اور سست عورت تھی ، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو اجازت دے دی۔