(۹۵۲۰)أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ دَاوُدَ الْعَلَوِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ أَخْبَرَنَا أَبُو حَامِدِ ابْنُ الشَّرْقِیِّ الْحَافِظُ إِمْلاَئً مِنْ حَفْظِہِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یَحْیَی الذُّہْلِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ بْنُ ہَمَّامٍ رَحِمَہُ اللَّہُ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ قَالَ قَالَ لِی أَیُّوبُ وَنَحْنُ ہَا ہُنَا : اذْہَبْ بِنَا إِلَی خِبَائِ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ فَإِنَّہُ بَلَغَنِی أَنَّہُ أَمَرَ النَّاسَ أَنْ لاَ یَنْفِرُوا مِنْ جَمْعٍ حَتَّی تَطْلُعَ الشَّمْسُ۔ قَالَ مَعْمَرٌ : فَذَہَبْتُ مَعَ أَیُّوبَ حَتَّی أَتَیْنَا فُسْطَاطَہُ فَإِذَا عِنْدَہُ قَوْمٌ مِنَ الْعَلَوِیَّۃِ وَہُوَ یَتَحَدَّثُ مَعَہُمْ فَلَمَّا بَصُرَ بِأَیُّوبَ قَامَ فَخَرَجَ مِنْ فُسْطَاطِہِ حَتَّی اعْتَنَقَ أَیُّوبَ ثُمَّ أَخَذَ بِیَدِہِ فَحَوَّلَہُ إِلَی فُسْطَاطٍ آخَرَ قَالَ مَعْمَرٌ کَرِہَ أَنْ یُجْلِسَہُ مَعَہُمْ قَالَ : ثُمَّ دَعَا بِطَبَقٍ مِنْ تَمْرٍ فَجَعَلَ یُنَاوِلُ أَیُّوبَ فِی یَدِہِ ثُمَّ قَالَ : اذْہَبُوا إِلَی ہَؤُلاَئِ بِطَبِقٍ فَإِنَّا إِنْ بَعَثْنَا إِلَیْہِمْ تَرَکُونَا وَإِلاَّ شَنَّعُوا عَلَیْنَا۔ فَقَالَ لَہُ أَیُّوبُ : مَا ہَذَا الَّذِی بَلَغَنِی عَنْکَ؟ قَالَ : وَمَا بَلَغَکَ عَنِّی قَالَ : بَلَغَنِی أَنَّکَ أَمَرْتَ النَّاسَ أَنْ لاَ یَدْفَعُوا مِنْ جَمْعٍ حَتَّی تَطْلُعَ الشَّمْسُ۔ فَقَالَ : سُبْحَانَ اللَّہِ خِلاَفَ سُنَّۃِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ حَدَّثَنِی أَبِی عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ : أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ دَفَعَ مِنْ جَمْعٍ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ وَلَکِنَّ النَّاسَ یَحْمِلُونَ عَلَیْنَا وَیَرْوُونَ عَنَّا مَا لاَ نَقُولُ وَیَزْعُمُونُ أَنَّ عِنْدَنَا عِلْمًا لَیْسَ عِنْدَ النَّاسِ وَاللَّہِ إِنَّ عِنْدَ بَعْضِ النَّاسِ لَعِلْمًا لَیْسَ عِنْدَنَا وَلَکِنَّ لَنَا حَقٌّ وَقَرَابَۃٌ فَلَمْ یَزَلْ یَذْکُرُ مِنْ حَقِّہِمْ وَقَرَابَتِہِمْ حَتَّی رَأَیْتُ الدَّمْعَ یَجْرِی مِنْ عَیْنِ أَیُّوبَ۔ [صحیح]
(٩٥٢٠) معمر کہتے ہیں کہ مجھے ایوب نے کہا : ہمارے ساتھ جعفر بن محمد کے خیمے میں آؤ ، کیوں کہ مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ اس نے لوگوں کو حکم دیا ہے کہ سورج کے طلوع ہونے سے پہلے جمع سے نہ نکلو، معمر کہتے ہیں : میں ایوب کے ساتھ گیا حتیٰ کہ ہم اس کے خیمے پر پہنچے تو اس کے پاس علوی قوم کے لوگ موجود تھے اور وہ ان کے ساتھ باتیں کر رہے تھے۔ جب انھوں نے ایوب کو دیکھا تو کھڑے ہوئے اور خیمے سے نکلے، ایوب کے ساتھ معانقہ کیا، پھر اس کا ہاتھ پکڑا اور اس کو لے کر دوسرے خیمے کی طرف گئے، معمر کہتے ہیں : انھوں نے ان کو ان لوگوں کے ساتھ بٹھانا مناسب نہ سمجھا، پھر کھجوروں کا تھال منگوایا اور ایوب کے ہاتھ میں پکڑانے لگے، پھر کہا : ان لوگوں کی طرف طبق لے جاؤ، اگر ہم ان کی طرف بھیجیں تو وہ ہمیں چھوڑ دیں گے اور اگر نہ بھیجیں تو ہمیں برا کہیں گے تو اس کو ایوب نے کہا : یہ کیا بات ہے جو مجھے تمہارے بارے میں پہنچی ہے ؟ کہنے لگے : کیا پہنچی ہے ؟ انھوں نے کہا : مجھے یہ خبر ملی ہے کہ آپ لوگوں کو کہتے ہیں کہ جمعہ سے سورج طلوع ہونے سے پہلے نہ نکلو۔ انھوں نے کہا : سبحان اللہ یہ تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سنت کے خلاف ہے، مجھے میرے والد نے جابر بن عبداللہ (رض) سے روایت کرتے ہوئے بیان کیا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جمعہ سے سورج طلوع ہونے سے پہلے نکلے، لیکن لوگ ہم پر جھوٹ باندھتے ہیں اور ہم سے وہ کچھ روایت کرتے ہیں جو ہم نے نہیں کہا اور سمجھتے ہیں کہ ہمارے پاس وہ علم ہے جو لوگوں کے پاس نہیں ہے، اللہ کی قسم ! بعض لوگوں کے پاس ایسا علم ہے، جو ہمارے پاس نہیں ہے لیکن ہمارے لیے حق ہے اور قرابت ہے اور اپنا حق اور قرابت بیان کرتے رہے حتیٰ کہ میں نے ایوب کے آنکھوں سے آنسو جاری ہوتے دیکھے۔