(۹۵۲۱)أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ الشَّیْبَانِیُّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَن بْنُ الْمُبَارَکِ الْعَیْشِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِیدٍ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ قَیْسٍ بْنِ مَخْرَمَۃَ عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ بِعَرَفَۃَ فَحَمِدَ اللَّہَ وَأَثْنَی عَلَیْہِ ثُمَّ قَالَ : ((أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ أَہْلَ الشِّرْکِ وَالأَوْثَانِ کَانُوا یَدْفَعُونَ مِنْ ہَا ہُنَا عِنْدَ غُرُوبِ الشَّمْسِ حَتَّی تَکُونَ الشَّمْسُ عَلَی رُئُ وسِ الْجِبَالِ مِثْلَ عَمَائِمِ الرِّجَالِ عَلَی رُئُ وسِہَا ہَدْیُنَا مُخَالِفٌ ہَدْیَہُمْ ۔ وَکَانُوا یَدْفَعُونَ مِنَ الْمَشْعَرِ الْحَرَامِ عِنْد طُلُوعِ الشَّمْسِ عَلَی رُئُ وسِ الْجِبَالِ مِثْلَ عَمَائِمِ الرِّجَالِ عَلَی رُئُ وسِہَا ہَدْیُنَا مُخَالِفٌ لِہَدْیِہِمْ))۔
وَرَوَاہُ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ إِدْرِیسَ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ قَیْسِ بْنِ مَخْرَمَۃَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ خَطَبَ یَوْمَ عَرَفَۃَ فَقَالَ : ((ہَذَا یَوْمُ الْحَجِّ الأَکْبَرِ)) ۔ ثُمَّ ذَکَرَ مَا بَعْدَہُ بِمَعْنَاہُ مُرْسَلاً۔
[صحیح لغیرہ۔ حاکم ۲/ ۳۰۴۔ طبرانی کبیر ۲۸]
(٩٥٢١) مسور بن مخرمہ (رض) فرماتے ہیں : ہمیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عرفہ میں خطبہ دیا ، اللہ کی حمدوثنا بیان کی ۔ پھر کہا : امابعد ! یقیناً مشرک اور بت پرست یہاں سے سورج غروب ہونے کے قریب جاتے تھے حتیٰ کہ سورج پہاڑوں کے سروں پر ایسے ہوتا جیسے پگڑیاں آدمیوں کے سروں پر ہوتی ہیں اور ہمارا طریقہ ان کے طریقے کے مخالف ہے اور وہ مشعر حرام سے سورج کے پہاڑوں کے سروں پر طلوع ہونے کے وقت جاتے جس طرح آدمیوں کی پگڑیاں ان کے سروں پر ہوتی ہیں اور ہمارا طریقہ ان کے طریقہ کے مخالف ہے۔
اس حدیث کو عبداللہ بن ادریس نے ابن جریج سے محمد بن قیس بن مخرمہ کے واسطے سے روایت کیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عرفہ کے دن خطبہ ارشاد فرمایا تو (اس میں) فرمایا : ((ہَذَا یَوْمُ الْحَجِّ الأَکْبَرِ )) یہ حج اکبر کا دن ہے “ پھر اس کے بعد والی حدیث اس کے ہم معنی مرسل ذکر کی۔