(۹۵۳۱)وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا وَہْبُ بْنُ بَیَانٍ حَدَّثَنَا عَبِیدَۃُ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ الأَعْمَشُ عَنِ الْحَکَمِ عَنْ مِقْسَمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ: أَفَاضَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ مِنْ عَرَفَۃَ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ إِلَی قَوْلِہِ حَتَّی أَتَی جَمْعًا قَالَ ثُمَّ أَرْدَفَ الْفَضْلَ بْنَ عَبَّاسٍ وَقَالَ : ((یَا أَیُّہَا النَّاسُ إِنَّ الْبِرَّ لَیْسَ بِإِیجَافِ الْخَیْلِ وَالإِبِلِ فَعَلَیْکُمْ بِالسَّکِینَۃِ))۔ فَمَا رَأَیْتُہَا رَافِعَۃً یَدَیْہَا حَتَّی أَتَی مِنًی۔ [صحیح]
(٩٥٣١) ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عرفہ سے لوٹے جمع پہنچتے ۔ پھر فضل بن عباس (رض) کو ردیف بنایا اور فرمایا : اے لوگو ! نیکی اونٹوں اور گھوڑوں کو دوڑانے میں نہیں ہے۔ لہٰذا تم سکون کو لازم پکڑو۔
میں نے اس سواری کو اپنے اگلے پاؤں اٹھاتے ہوئے نہیں دیکھا حتیٰ کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) منیٰ آگئے۔