(۹۵۳۰) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِیسَی الْقَاضِی حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ : مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ عَنْ کَثِیرِ بْنِ شِنْظِیرٍ عَنْ عَطَائٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : إِنَّمَا کَانَ بَدْئُ الإِیضُاعِ مِنْ أَہْلِ الْبَادِیَۃِ کَانُوا یَقِفُونَ حَافَتَیِ النَّاسِ قَدْ عَلَّقُوا الْقِعَابَ وَالْعُصِیَّ فَإِذَا أَفَاضُوا تَقَعْقَعُوا فَأَنْفَرَتْ بِالنَّاسِ فَلَقَدْ رَأَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ وَإِنَّ ذِفْرَیْ نَاقَتِہِ لَتَمَسُّ حَارِکَہَا وَہُوَ یَقُولُ: ((یَا أَیُّہَا النَّاسُ عَلَیْکُمْ بِالسَّکِینَۃِ))۔[حسن۔ ابن خزیمہ ۲۸۶۳۔ حاکم ۱/۶۳۷]
(٩٥٣٠) ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ تیز چلنا بدویوں نے شروع کیا ، وہ لوگوں کے اطراف میں کھڑے ہوتے ، انھوں نے لاٹھیاں لٹکا رکھی ہوتیں ۔ جب وہ لوٹتے تو تیزی کرتے اور لوگوں کو جلدی میں ڈالتے اور میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا ہے کہ آپ کی اونٹنی کی گردن کجاوے کے ساتھ لگ رہی ہوتی اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے : اے لوگو ! تم سکون کو لازم پکڑو۔