(۹۵۴۲)أَخْبَرَنَا أَبُوعَمْرٍو الأَدِیبُ أَخْبَرَنَا أَبُوبَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْکُوفِیُّ حَدَّثَنَا أَبُوغَسَّانَ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ مُحَمَّدٍ الأَنْصَارِیُّ عَنْ جَمِیلِ بْنِ زَیْدٍ قَالَ : رَأَیْتُ ابْنَ عُمَرَ یَرْمِی الْجِمَارَ مِثْلَ بَعْرِ الْغَنَمِ۔
وَرُوِّینَا عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ : أَنَّہُ کَانَ یَأْخُذُ الْحَصَی مِنْ جَمْعٍ کَرَاہِیَۃَ أَنْ یَنْزِلَ۔
قَالَ الشَّافِعِیُّ : وَمَنْ حَیْثُ أَخَذَ أَجْزَأَہُ إِلاَّ أَنِّی أَکْرَہُہُ مِنَ الْمَسْجِدِ لِئَلاَ یُخْرِجَ حَصَی الْمَسْجِدِ مِنْہُ وَمَنِ الْحُشِّ لِنَجَاسَتِہِ وَمِنَ الْجَمْرَۃِ لأَنَّہُ حَصَی غَیْرُ مُتَقَبَّلٍ۔
قَالَ الشَّیْخُ : وَقَدْ رُوِّینَا فِی کِتَابِ الصَّلاَۃِ عَنْ أَبِی صَالِحٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ مَرْفُوعًا : أَنَّ الْحَصَی یُنَاشِدُ الَّذِی یُخْرِجُہُ مِنَ الْمَسْجِدِ۔ [ضعیف]
(٩٥٤٢) (الف) جمیل بن زید فرماتے ہیں کہ میں نے ابن عمر (رض) کو بکری کی مینگنی جیسی کنکریاں مارتے دیکھا۔
(ب) سیدنا ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ نیچے اترنے کو مکروہ خیال کرتے ہوئے وہ مزدلفہ ہی سے کنکریاں لے لیا کرتے تھے۔
(ج) امام شافعی (رض) فرماتے ہیں : انھوں نے لیا ہے مگر یہ کہ وہ جہاں سے بھی لیں ان کو کفایت کر جائیں گی ۔ مگر میں مسجد سے کنکریاں لینا مکروہ سمجھتا ہوں کہ کہیں مسجد سے ساری کنکریاں نہ نکالی جائیں اور کسی باغ یا بیت الخلاء وغیرہ سے اس لیے کہ وہ نجس ہوتی ہیں اور وہیں جمرہ سے اٹھانے کو اس لیے کہ وہ غیر مقبول کنکریاں ہیں۔
(د) شیخ (رض) فرماتے ہیں ہم کتاب الصلوٰۃ میں ابو صالح سے ابوہریرہ (رض) کے واسطہ سے مرفوع روایت نقل کرچکے ہیں کہ ” کنکری اس آدمی سے اپیل کرتی ہے جو اس کو مسجد سے نکالتا ہے۔