(۹۵۵۴)أَبُو الْفَتْحِ : ہِلاَلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ الْحَفَّارُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا الْحُسَیْنُ بْنُ یَحْیَی بْنِ عَیَّاشٍ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ حَدَّثَنَا عَبِیدَۃُ بْنُ حُمَیْدٍ حَدَّثَنِی یَزِیدُ بْنُ أَبِی زِیَادٍ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ عَمْرِو بْنِ الأَحْوَصِ عَنْ أُمِّہِ قَالَتْ : رَأَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ عِنْدَ جَمْرَۃِ الْعَقَبَۃِ رَاکِبًا وَوَرَائَ ہُ رَجُلٌ یَسْتُرُہُ مِنْ رَمْیِ النَّاسِ فَقَالَ : یَا أَیُّہَا النَّاسُ لاَ یَقْتُلْ بَعْضُکُمْ بَعْضًا وَمَنْ رَمَی الْجَمْرَۃَ فَلْیَرْمِہَا بِمِثْلِ حَصَی الْخَذْفِ ۔ قَالَتْ : وَرَأَیْتُ بَیْنَ أَصَابِعِہِ حَجَرًا قَالَتْ فَرَمَی وَرَمَی النَّاسُ ثُمَّ انْصَرَفَ۔ [ضعیف]
(٩٥٥٤) سلیمان بن عمرو اپنی والدہ سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جمرہ کے پاس سوار دیکھا اور آپ کے پیچھے ایک آدمی ان کو لوگوں کی رمی سے بچا رہا تھا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے لوگو ! ایک دوسرے کو قتل نہ کرو، جو جمرہ کو مارے وہ چھوٹی کنکریاں مارے، کہتی ہیں : میں نے آپ کی انگلیوں کے درمیان پتھر دیکھے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بھی رمی کی اور لوگوں نے بھی، پھر آپ لوٹ آئے۔