(۹۵۹۰)أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْکَرِیمِ بْنُ الْہَیْثَمِ حَدَّثَنَا أَبُو الْیَمَانِ أَخْبَرَنِی شُعَیْبٌ أَخْبَرَنِی نَافِعٌ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ قَالَ : خَطَبَ النَّاسَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ تَعَالَی عَنْہُ بِعَرَفَۃَ فَحَدَّثَہُمْ عَنْ مَنَاسِکِ الْحَجِّ فَقَالَ فِیمَا یَقُولُ : إِذَا کَانَ بِالْغَدَاۃِ إِنْ شَائَ اللَّہُ تَعَالَی فَدَفَعْتُمْ مِنْ جَمْعٍ فَمَنْ رَمَی الْجَمْرَۃَ الْقُصْوَی الَّتِی عِنْدَ الْعَقَبَۃِ بِسَبْعِ حَصَیَاتٍ ثُمَّ انْصَرَفَ فَنَحَرَ ہَدْیًا إِنْ کَانَ لَہُ ثُمَّ حَلَقَ أَوْ قَصَّرَ فَقَدْ حَلَّ لَہُ مَا حَرُمَ عَلَیْہِ مِنْ شَأْنِ الْحَجِّ إِلاَّ طِیبًا أَوْ نِسَائً فلاَ یَمَسَّ أَحَدٌ طِیبًا وَلاَ نِسَائً حَتَّی یَطُوفَ بِالْبَیْتِ۔ [صحیح۔ مالک ۹۲۲]
(٩٥٩٠) ابن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ عمر بن خطاب (رض) نے لوگوں کو عرفہ میں خطبہ دیا اور ان کو مناسک حج بتائے اور اس دوران یہ بات بھی کہی کہ صبح کو ان شاء اللہ تم جمع سے لوٹو گے تو جس نے جمرہ قصوی جو کہ عقبہ کے پاس ہے رمی کی سات کنکریوں کے ساتھ، پھر آکر اس نے قربانی کی، اگر اس کے پاس ہے تو پھر اس نے سر منڈایا یا بال کٹوائے تو اس کے لیے وہ تمام کچھ حلال ہوجائے گا جو حج کی وجہ سے حرام تھا، عورتوں اور خوشبو کے سوا لہٰذا کوئی بھی نہ تو خوشبو کو چھوئے نہ عورتوں کو حتیٰ کہ بیت اللہ کا طواف کرلے۔