(۹۵۹۱)وَأَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یَحْیَی بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّکَّرِیُّ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ سَالِمٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ سَمِعْتُ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَقُولُ : إِذَا رَمَیْتُمُ الْجَمْرَۃَ بِسَبْعِ حَصَیَاتٍ وَذَبَحْتُمْ وَحَلَقْتُمْ فَقَدْ حَلَّ لَکُمْ کُلُّ شَیْئٍ إِلاَّ النِّسَائَ وَالطِّیبَ۔
قَالَ سَالِمٌ وَقَالَتْ عَائِشَۃُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا : حَلَّ لَہُ کُلُّ شَیْئٍ إِلاَّ النِّسَائَ ۔
قَالَ: وَقَالَتْ عَائِشَۃُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا : أَنَا طَیَّبْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ تَعْنِی لِحِلِّہِ۔ [صحیح۔ انظر قبلہ]
(٩٥٩١) ابن عمر (رض) فرماتے ہیں : میں نے عمر (رض) کو یہ کہتے ہوئے س ناکہ جب تم جمرہ کو سات کنکریاں مار لو اور ذبح کرلو اور سر منڈا لو تو تمہارے لیے عورتوں اور خوشبو کے علاوہ باقی سب حلال ہے۔
عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ محرم کے لیے عورتوں سے سوا سب کچھ حلال ہوجاتا ہے اور فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خوشبو لگائی، وہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حلال ہونے کو مراد لے رہی تھیں۔