(۹۶۰۲) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ عَنْ عَطَائٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ الْفَضْلِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ لَمْ یَزَلْ یُلَبِّی حَتَّی رَمَی الْجَمْرَۃَ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی عَاصِمٍ۔
وَفِی الْحَدِیثِ الثَّابِتِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ : أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ أَتَی الْجَمْرَۃَ الَّتِی عِنْدَ الشَّجَرَۃِ فَرَمَاہَا بِسَبْعِ حَصَیَاتٍ یُکَبِّرُ مَعَ کُلِّ حَصَاۃٍ مِنْہَا ، وَکَذَلِکَ فِی الْحَدِیثِ الثَّابِتِ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ : یُکَبِّرُ مَعَ کُلِّ حَصَاۃٍ۔ [صحیح۔ بخاری ۱۶۰۱]
(٩٦٠٢) فضل (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تلبیہ کہتے رہے حتیٰ کہ جمرہ کو رمی کی۔
جابر بن عبداللہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس جمرہ کے پاس آئے جو درخت کے پاس تھا، پس آپ نے اسے سات کنکریاں ماریں ان میں سے ہر کنکری کے ساتھ تکبیر کہتے۔ اسی طرح ابن مسعود (رض) سے ثابت روایت میں ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہر کنکری کے ساتھ تکبیر کہتے۔