(۹۶۴۹)أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطّانُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالاَ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ قَالَ حَدَّثَنَا جَرِیرٌ عَنِ الشَّیْبَانِیِّ عَنْ زِیَادِ بْنِ عِلاَقَۃَ عَنْ أُسَامَۃَ بْنِ شَرِیکٍ قَالَ : خَرَجْتُ مَعَ النَّبِیِّ -ﷺ حَاجًّا فَکَانَ النَّاسُ یَأْتُونَہُ فَمِنْ قَائِلٍ : یَا رَسُولَ اللَّہِ سَعَیْتُ قَبْلَ أَنْ أَطُوفَ أَوْ أَخَّرْتُ شَیْئًا أَوْ قَدَّمْتُ شَیْئًا فَکَانَ یَقُولُ لَہُمْ : لاَ حَرَجَ لاَ حَرَجَ إِلاَّ عَلَی رَجُلٍ اقْتَرَضَ عِرْضَ رَجُلٍ مُسْلِمٍ وَہُوَ ظَالِمٌ فَذَلِکَ الَّذِی حَرَجَ وَہَلَکَ ۔قَالَ الشَّیْخُ : ہَذَا اللَّفْظُ سَعَیْتُ قَبْلَ أَنْ أَطُوفَ غَرِیبٌ تَفَرَّدَ بِہِ جَرِیرٌ عَنِ الشَّیْبَانِیِّ فَإِنْ کَانَ مَحْفُوظًا فَکَأَنَّہُ سَأَلَہُ عَنْ رَجُلٍ سَعَی عُقَیْبِ طَوَافِ الْقُدُومِ قَبْلَ طَوَافِ الإِفَاضَۃِ فَقَالَ : لاَ حَرَجَ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔
[صحیح۔ ابوداود ۲۰۱۴۔ ابن خزیمہ ۲۷۷۴]
(٩٦٤٩) اسامہ بن شریک (رض) فرماتے ہیں : میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ حج کرنے نکلا، لوگ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے ، کوئی کہتا : میں نے طواف سے پہلے سعی کرلی ہے یا کچھ مقدم و موخر کرلیا ہے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کو فرماتے : کوئی حرج نہیں ، کوئی حرج نہیں۔ سوائے اس آدمی کے جس نے مسلمان آدمی کی عزت خراب کی اور وہ ظالم تھا تو یہی ہے جس پر حرج ہے اور وہ ہلاک ہوگیا۔
شیخ (رض) فرماتے ہیں : سَعَیْتُ قَبْلَ أَنْ أَطُوفَ یہ الفاظ غریب ہیں ، ان کو شیبانی سے بیان کرنے میں جریر منفرد ہے ، اگر یہ محفوظ بھی ہو تو اس کا مطلب یہ ہوگا گویا کہ اس نے ایسے آدمی کے بارے میں پوچھا جو طواف قدوم کے پیچھے سعی کرے ، طوافِ افاضہ سے پہلے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کوئی حرج نہیں۔ واللہ اعلم