(۹۶۵۶)أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِی بَکْرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ الثَّقَفِیُّ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ الأَسْوَدِ حَدَّثَنِی جَلِیسٌ لاِبْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ لِی ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : مِنْ أَیْنَ جِئْتَ؟ قُلْتُ : شَرِبْتُ مِنْ زَمْزَمَ قَالَ : شَرِبْتَ کَمَا یَنْبَغِی۔ قُلْتُ : کَیْفَ أَشْرَبُ؟ قَالَ : إِذَا شَرِبْتَ فَاسْتَقْبِلِ الْقِبْلَۃَ ثُمَّ اذْکُرْ اسْمَ اللَّہِ ثُمَّ تَنَفَّسَ ثَلاَثًا وَتَضَّلَعْ مِنْہَا فَإِذَا فَرَغْتَ فَاحْمَدِ اللَّہَ فَإِنَّ النَّبِیَّ -ﷺ قَالَ : آیَۃٌ مَا بَیْنَنَا وَبَیْنَ الْمُنَافِقِینَ أَنَّہُمْ لاَ یَتَضَلَّعُونَ مِنْ زَمْزَمَ ۔ [صحیح]
(٩٦٥٦) عثمان بن اسود فرماتے ہیں کہ ہم کو ابن عباس (رض) کے ایک ہم نشین نے کہا کہ مجھے ابن عباس (رض) نے فرمایا : تو کہاں سے آیا ہے ؟ میں نے کہا : میں نے زمزم پیا ہے، تو انھوں نے کہا : کیا تم نے کما حقہ پیا ہے ؟ میں نے کہا : میں کیسے پیوں ؟ انھوں نے کہا : جب تو پینے لگے تو قبلے کی طرف منہ کر ، پھر اللہ کا نام لے، پھر تین سانس لے اور جی بھر کے پی اور جب تو فارغ ہوجائے تو اللہ کی حمدبیان کر، بیشک نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے ، ہمارے اور منافقوں کے درمیان نشانی یہ ہے کہ وہ پیٹ بھر کر زمزم نہیں پیتے۔