(۹۶۶۱)أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَۃَ : عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو الدِّمَشْقِیُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ الْوَہْبِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَتْ : أَفَاضَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ مِنْ آخِرِ یَوْمِہِ حِینَ صَلَّی الظُّہْرَ ثُمَّ رَجَعَ فَمَکَثَ بِمِنًی لَیَالِیَ أَیَّامِ التَّشْرِیقِ یَرْمِی الْجَمْرَۃَ إِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ کُلَّ جَمْرَۃٍ بِسَبْعِ حَصَیَاتٍ یُکَبِّرُ مَعَ کُلِّ حَصَاۃٍ وَیَقِفُ عِنْدَ الأُولَی وَعِنْدَ الثَّانِیَۃِ فَیُطِیلُ الْقِیَامَ وَیَتَضَرَّعُ ثُمَّ یَرْمِی الثَّالِثَۃَ وَلاَ یَقِفُ عِنْدَہَا۔
[ضعیف۔ ابوداود ۱۹۷۴۔ احمد ۶/ ۹۰]
(٩٦٦١) سیدہ عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دن کے آخر میں ظہر کی نماز پڑھنے کے بعد لوٹے، پھر آئے اور منیٰ میں ایام تشریق گزارے، جب سورج زائل ہوجاتا تو رمی جمار کرتے، ہر جمرہ کو سات کنکریاں مارتے اور ہر کنکری کے ساتھ تکبیر کہتے۔ پہلی اور دوسری کنکری کے وقت ٹھہرتے ، لمبا قیام کرتے اور عاجزی کرتے۔ پھر تیسری کنکری مارتے اور اس وقت نہ ٹھہرتے۔