(۹۶۶۷) وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو حَامِدِ بْنُ بِلاَلٍ الْبَزَّازُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ الأَحْمَسِیُّ حَدَّثَنَا الْمُحَارِبِیُّ عَنْ إِسْمَاعِیلَ بْنِ أَبِی خَالِدٍ عَنْ وَبَرَۃَ قَالَ : قَامَ ابْنُ عُمَرَ حِینَ رَمَی الْجَمْرَۃَ عَنْ یَسَارِہَا نَحْوَ مَا لَوْ شِئْتَ قَرَأْتَ سُورَۃَ الْبَقَرَۃِ۔ [صحیح]
وَرُوِّینَا عَنْ أَبِی مِجْلَزٍ فِی حَزَرِ قِیَامِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : فَکَانَ قَدْرَ قِرَائَ ۃِ سُورَۃِ یُوسُفَ وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّہُ کَانَ یَقُومُ بِقَدْرِ قِرَائَ ۃِ سُورَۃٍ مِنَ الْمِئِینَ وَرُوِّینَا عَنْ عَطَائِ بْنِ أَبِی رَبَاحٍ : أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ کَانَ یَعْلُو فِی الْجَمْرَتَیْنِ إِذَا رَمَاہُمَا۔
وَرُوِّینَا عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ مَرْفُوعًا فِی رَمْیِ جَمْرَۃِ الْعَقَبَۃِ مِنْ بَطْنِ الْوَادِی
وَرُوِّینَا عَنْ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ تَعَالَی عَنْہُ أَنَّہُ قَالَ : لاَ تَرْمِی الْجَمْرَۃَ حَتَّی یَمِیلَ النَّہَارُ۔
(٩٦٦٧) (الف) وبرہ کہتے ہیں کہ جب ابن عمر (رض) نے جمرہ کو مارا تو اتنی دیر تک اس کے پاس رکے کہ اگر تو چاہے تو سورة بقرہ پڑھ سکتا ہے۔
(ب) ابو مجلز سے ابن عمر کے قیام کے اندازے کے بارے میں منقول ہے فرماتے ہیں کہ ابن عمر سورة یوسف کی قراءت کے اندازے کے برابر ٹھہرتے اور ابن عباس (رض) سے منقول ہے کہ وہ دو سو آیات والی سورت پڑھنے کے اندازے کے برابر کھڑے رہتے۔
عطا بن ابی رباح (رض) سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دونوں جمروں میں اونچے مقام پر رہتے، جب انھیں کنکریاں مارتے۔
(ج) اور ابن مسعود (رض) سے وادی کے وسط سے جمرۂ عقبہ کو رمی کرنے کے بارے میں مرفوع روایت منقول ہے۔
(د) اور سیدنا عمر (رض) سے مروی ہے کہ وہ فرماتے ہیں اس وقت تک جمرہ و کنکریاں نہ مارو حتیٰ کہ دن ڈھل جائے۔