(۹۶۶۸)أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ مُحَمَّدٍ الْحِنَّائِیُّ حَدَّثَنَا شَیْبَانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ التَّیْمِیُّ عَنْ أَبِی مِجْلَزٍ أَنَّ رَجُلاً سَأَلَ ابْنَ عُمَرَ فَقَالَ : إِنِّی رَمَیْتُ الْجَمْرَۃَ وَلَمْ أَدْرِ رَمَیْتُ سِتًّا أَوْ سَبْعًا۔ قَالَ : ائْتِ ذَاکَ الرَّجُلَ یُرِیدُ عَلِیًّا رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَذَہَبَ فَسَأَلَہُ فَقَالَ : أَمَّا أَنَا لَوْ فَعَلْتُ فِی صَلاَتِی لأَعَدْتُ الصَّلاَۃَ۔ فَجَائَ فَأَخْبَرَہُ بِذَلِکَ فَقَالَ : صَدَقَ أَوْ أَحْسَنَ۔
قَالَ الشَّیْخُ : وَکَأَنَّہُ أَرَادَ وَاللَّہُ أَعْلَمُ لأَعَدْتُ الْمَشْکُوکَ فِی فِعْلِہِ کَذَلِکَ فِی الرَّمْیِ یُعِیدُ الْمَشْکُوکَ فِی رَمْیِہِ وَقَدْ مَضَی فِی کِتَابِ الصَّلاَۃِ حَدِیثُ أَبِی سَعِیدٍ وَغَیْرِہِ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ فِی الْبِنَائِ عَلَی الْیَقِینِ وَبِاللَّہِ التَّوْفِیقُ۔ [صحیح]
(٩٦٦٨) ابومجلز فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے ابن عمر (رض) سے پوچھا کہ میں نے جمرہ کو رمی کی ہے ، لیکن یاد نہیں کہ چھ کنکریاں ماری ہیں یا سات۔ انھوں نے کہا : اس آدمی یعنی علی (رض) کے پاس جاؤ۔ وہ گیا اور اس نے ان سے پوچھا تو وہ فرمانے لگے : اگر میرے ساتھ نماز میں یہ معاملہ بنے تو میں اپنی نماز دھراؤں گا۔ اس نے واپس آکر انھیں (ابن عمر) کو بتایا تو انھوں نے کہا : اس نے سچ کہا یا اچھا کیا۔
شیخ صاحب (رض) فرماتے ہیں : شاید واللہ اعلم ! انھوں نے مشکوک کو دھرانے کا ارادہ کیا ہے اسی طرح رمی میں بھی جس میں شک ہے، اس کو دھرایا جائے گا۔