(۹۶۶۹)وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْمِصْرِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِی مَرْیَمَ حَدَّثَنَا الْفِرْیَابِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ عَنِ ابْنِ أَبِی نَجِیحٍ قَالَ : سُئِلَ طَاوُسٌ عَنْ رَجُلٍ تَرَکَ حَصَاۃً قَالَ : یُطْعِمُ لُقْمَۃً قَالَ فَذَکَرْتُ ذَلِکَ لِمُجَاہِدٍ فَقَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَن : لَمْ یَسْمَعْ قَوْلَ سَعْدٍ قَالَ سَعْدُ بْنُ مَالِکٍ : رَجَعْنَا فِی حَجَّۃِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ فَمِنَّا مَنْ یَقُولُ : رَمَیْتُ بِسِتٍّ وَمِنَّا مَنْ یَقُولُ : رَمَیْتُ بِسَبْعٍ فَلَمْ یَعِبْ ذَاکَ بَعْضُنَا عَلَی بَعْضٍ۔
(٩٦٦٩) ابن ابی نجیح فرماتے ہیں کہ طاوس سے اس شخص کے بارے میں پوچھا گیا جس نے ایک کنکری چھوڑ دی تو انھوں نے کہا : وہ ایک لقمہ کھلائے تو میں نے یہ بات مجاہد کو ذکر کی تو ابوعبدالرحمن نے کہا : اس نے سعد (رض) کی بات نہیں سنی، سعد بن مالک (رض) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حج کے بارے میں فرماتے ہیں، ہم سے کوئی کہتا تھا، میں نے چھ کنکریاں ماری ہیں اور کوئی کہتا تھا : میں نے سات کنکریاں ماری ہیں تو کوئی بھی ایک دوسرے پر عیب نہ لگاتا۔ [ضعیف۔ نسائی ٣٠٧٧، احمد ١/ ١٦٨، مجاہد نے سعد سے نہیں سنا۔