(۹۶۹) أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ حَمْشَاذَ الْعَدْلُ حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ أَبِی أُسَامَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا اللَّیْثُ عَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ صَالِحٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی قَیْسٍ قَالَ : سَأَلْتُ عَائِشَۃَ عَنْ وِتْرِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ -کَیْفَ کَانَ یُوتِرُ مِنْ أَوَّلِ اللَّیْلِ أَوْ آخِرِہِ؟ قَالَتْ : کُلَّ ذَلِکَ کَانَ یَفْعَلُ ، رُبَّمَا أَوْتَرَ وَرُبَّمَا أَخَّرَہُ۔ قُلْتُ : الْحَمْدُ لِلَّہِ الَّذِی جَعَلَ فِی الأَمْرِ سَعَۃً۔ قُلْتُ : کَیْفَ کَانَتْ قِرَائَ تُہُ مِنَ اللَّیْلِ ، أَکَانَ یُسِرُّ بِالْقِرَائَ ۃِ مِنَ اللَّیْلِ أَمْ یَجْہَرُ؟ قَالَتْ : کُلَّ ذَلِکَ قَدْ کَانَ یَفْعَلُ ، رُبَّمَا أَسَرَّ وَرُبَّمَا جَہَرَ۔ قَالَ قُلْتُ : الْحَمْدُ لِلَّہِ الَّذِی جَعَلَ فِی الأَمْرِ سَعَۃً۔ قُلْتُ: کَیْفَ کَانَ یَصْنَعُ فِی الْجَنَابَۃِ ، أَکَانَ یَغْتَسِلَ قَبْلَ أَنْ یَنَامَ؟ أَوْ یَنَامَ قَبْلَ أَنْ یَغْتَسِلَ؟ قَالَتْ : کُلَّ ذَلِکَ قَدْ کَانَ یَفْعَلُ ، رُبَّمَا اغْتَسَلَ فَنَامَ ، وَرُبَّمَا تَوَضَّأَ فَنَامَ۔ قَالَ قُلْتُ : الْحَمْدُ لِلَّہِ الَّذِی جَعَلَ فِی الأَمْرِ سَعَۃً۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ قُتَیْبَۃَ عَنِ اللَّیْثِ إِلاَّ أَنَّہُ اخْتَصَرَ الْحَدِیثَ فَذَکَرَ قِصَّۃَ الْغُسْلِ دُونَ مَا قَبْلَہُ۔
[صحیح]
(٩٦٩) سیدنا عبداللہ بن قیس (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے سیدہ عائشہ (رض) سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے وتر کے متعلق سوال کیا کہ آپ وتر اول رات میں پڑھتے تھے یا رات کے آخری حصے میں ؟ فرماتی ہیں : آپ دونوں طرح کرتے تھے بعض اوقات وتر رات کے شروع میں پڑھتے اور بعض اوقات رات کے آخری حصے میں۔ میں نے کہا : تمام تعریفیں اس ذات کے لیے ہیں جس نے معاملے میں وسعت رکھی ہے، میں نے کہا : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رات کی قراءت کیسی تھی ؟ کیا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) رات کو قراءت اونچی کرتے تھے یا آہستہ ؟ فرماتی ہیں : آپ دونوں طرح کرتے تھے بعض اوقات آپ نے آہستہ کی اور بعض اوقات اونچی آواز سے ۔ میں نے کہا : سب تعریفیں اس ذات کے لیے ہیں جس نے معاملے میں وسعت رکھی ہے۔ پھر میں نے کہا : آپ جنابت میں کس طرح کرتے تھے، کیا آپ سونے سے پہلے غسل کرتے تھے یا غسل کرنے سے پہلے سو جاتے تھے ؟ فرماتی ہیں : آپ دونوں طرح کرتے تھے بعض اوقات آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے غسل کیا پھر سو گئے اور بعض اوقات آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وضو کیا پھر سو گئے۔ میں نے کہا : سب تعریفیں اس ذات کے لیے ہیں جس نے معاملے میں وسعت رکھی ہے۔