(۹۸) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الطَّرَائِفِیُّ۔
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْخَیْرِ: جَامِعُ بْنُ أَحْمَدَ الْمُحَمَّدَابَاذِیُّ وَاللَّفْظُ لَہُ حَدَّثَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْمُحَمَّدَابَاذِیُّ قَالاَ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ الدَّارِمِیُّ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ عَبْدِ رَبِّہِ الْجُرْجُسِیُّ حَدَّثَنَا بَقِیَّۃُ بْنُ الْوَلِیدِ عَنْ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ: کَانَ النَّبِیُّ -ﷺ- إِذَا أَخَذَ مَضْجِعَہُ مِنَ اللَّیْلِ وَضَعَ طَہُورَہُ وَسِوَاکَہُ وَمِشْطَہُ ، فَإِذَا ہَبَّہُ اللَّہُ تَعَالَی مِنَ اللَّیْلِ اسْتَاکَ وَتَوَضَّأَ وَامْتَشَطَ۔ قَالَ: وَرَأَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَمْتَشِطُ بِمِشْطٍ مِنْ عَاجٍ۔
قَالَ عُثْمَانُ: ہَذَا مُنْکَرٌ۔
(ج) قَالَ الشَّیْخُ: رِوَایَۃُ بَقِیَّۃَ عَنْ شُیُوخِہِ الْمَجْہُولِینَ ضَعِیفَۃٌ۔
(غ) وَقَدْ قَالَ أَبُو سُلَیْمَانَ الْخِطَّابِیُّ قَالَ الأَصْمَعِیُّ: الْعَاجُ الذَّبْلُ ، وَیُقَالُ ہُوَ عَظْمُ ظَہْرِ السُّلَحْفَاۃِ الْبَحْرِیَّۃِ ، وَأَمَّا الْعَاجُ الَّذِی تَعْرِفُہُ الْعَامَّۃُ فَہُوَ عَظْمُ أَنْیَابِ الْفِیَلَۃِ وَہُوَ مَیْتَۃٌ لاَ یَجُوزُ اسْتِعْمَالُہُ۔
[ضعیف۔ ففیہ بقیۃ بن ولید۔ المدلس المعروف]
(٩٨) حضرت انس (رض) سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب رات کو سونے کے لیے بستر پر تشریف لاتے تو اپنا پانی والا برتن، مسواک اور کنگھی بھی رکھتے۔ جب اللہ تعالیٰ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو رات میں بیدار کرتا تو آپ مسواک کرتے، وضو کرتے اور کنگھی کرتے۔ حضرت انس (رض) فرماتے ہیں : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہاتھی دانت سے بنی ہوئی کنگھی کرتے تھے۔
(ب) عثمان کہتے ہیں : یہ روایت منکر ہے۔
(ج) اصمعی کہتے ہیں کہ عاج ذبل کو کہتے ہیں اور بعض نے کہا : بڑے بحری کچھوے کی ہڈی کو کہتے ہیں اور عاج ہاتھی کی کچلیوں کی بڑی ہڈی کو کہتے ہیں اور وہ مردار ہے، اس کی کسی چیز کا استعمال درست نہیں۔