(۹۷) وَأَمَّا الْحَدِیثُ الَّذِی أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ۔
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ: أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْخَلِیلِ أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِیٍّ حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُباب حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِیدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُحَادَۃَ عَنْ حُمَیْدٍ الشَّامِیِّ عَنْ سُلَیْمَانَ الْمَنْبَہِیِّ عَنْ ثَوْبَانَ مَوْلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ-قَالَ: کَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ-إِذَا سَافَرَ کَانَ آخِرُ عَہْدِہِ بِإِنْسَانٍ مِنْ أَہْلِہِ فَاطِمَۃَ ، وَأَوَّلُ مَنْ یَدْخُلُ عَلَیْہَا إِذَا قَدِمَ فَاطِمَۃُ ، فَقَدِمَ مِنْ غَزَاۃٍ لَہُ وَقَدْ عَلَّقَتْ مِسْحًا أَوْ سِتْرًا عَلَی بابہَا ، وَحَلَّتِ الْحَسَنَ وَالْحُسَیْنَ قُلْبَیْنِ مِنْ فِضَّۃٍ ، فَقَدِمَ فَلَمْ یَدْخُلْ ، فَظَنَّتْ أَنَّمَا مَنَعَہُ أَنْ یَدْخُلَ مَا رَأَی فَہَتَکَتِ السِّتْرَ وَفَکَّتِ الْقُلْبَیْنِ عَنِ الصَّبِیَّیْنِ ، وَقَطَعَتْہُ بَیْنَہُمَا ، فَانْطَلَقَا إِلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ-وَہُمَا یَبْکِیَانِ ، فَأَخَذَہُ مِنْہُمَا وَقَالَ: ((یَا ثَوْبَانُ اذْہَبْ بِہَذَا إِلَی آلِ فُلاَنٍ أَہْلُ بَیْتٍ بِالْمَدِینَۃِ إِنَّ ہَؤُلاَئِ أَہْلِ بَیْتِی أَکْرَہُ أَنْ یَأْکُلُوا طَیِّبَاتِہِمْ فِی حَیَاتِہِمُ الدُّنْیَا ، یَا ثَوْبَانُ اشْتَرِ لِفَاطِمَۃَ قِلاَدَۃً مِنْ عَصَبٍ وَسِوَارَیْنِ مِنْ عَاجٍ))۔
(ج) قَالَ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِیٍّ الْحَافِظُ: حُمَیْدٌ الشَّامِیُّ ہَذَا إِنَّمَا أُنْکِرَ عَلَیْہِ ہَذَا الْحَدِیثُ ، وَہُو حَدِیثُہُ لَمْ أَعْلَمْ لَہُ غَیْرَہُ۔أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِینِیُّ۔
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِیِّ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی عِصْمَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو طَالِبٍ أَحْمَدُ بْنُ حُمَیْدٍ قَالَ سَأَلْتُ أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ عَنْ حُمَیْدٍ الشَّامِیِّ ہَذَا قَالَ: لاَ أَعْرِفُہُ۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِیُّ وَأَبُو بَکْرٍ:أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاہِیمَ الأُشْنَانِیُّ قَالُوا أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدُوسِ قَالَ سَمِعْتُ عُثْمَانَ بْنَ سَعِیدٍ الدَّارِمِیَّ یَقُولُ قُلْتُ لِیَحْیَی بْنِ مَعِینٍ: فَحُمَیْدٌ الشَّامِیُّ کَیْفَ حَدِیثُہُ الَّذِی یَرْوِی حَدِیثَ ثَوْبَانَ عَنْ سُلَیْمَانَ الْمَنْبَہِیِّ؟ فَقَالَ:مَا أَعْرِفُہُمَا۔
وَرُوِیَ فِیہِ حَدِیثٌ آخَرُ مُنْکَرٌ۔ [ضعیف۔ أخرجہ ابو داؤد ۴۲۳۱]
(٩٧) حضرت ثوبان (رض) مولیٰ سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب سفر کرتے تو اپنے اہل میں سے سب سے آخر میں فاطمہ (رض) سے ملتے اور جب واپس تشریف لاتے تو سیدہ فاطمہ (رض) کے گھر سب پہلے تشریف لاتے۔ ایک غزوہ سے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) واپس تشریف لائے تو دروازے پر ایک چمڑا یا پردہ لٹک رہا تھا، حضرت فاطمہ (رض) نے حسن و حسین (رض) کو چاندی کے دو کنگن پہنائے ہوئے تھے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائے تو اندر داخل نہیں ہوئے، سیدہ فاطمہ (رض) نے گمان کیا کہ جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دیکھا ہے، اس نے داخل ہونے سے روک دیا۔ سیدہ فاطمہ (رض) نے پردہ ہٹا دیا اور بچوں سے کنگن اتار دیے اور ان دونوں کو الگ الگ کردیا، دونوں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس گئے اور دونوں رو رہے تھے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان میں سے ایک کو پکڑا اور فرمایا ” اے ثوبان ! اس کو فلاں کی طرف لے جاؤ۔ “ مدینہ میں فلاں گھر کی طرف کیونکہ یہ میرے اہل بیت ہیں میں ناپسند کرتا ہوں کہ وہ دنیا کی زندگی میں کھائیں پئیں۔ اے ثوبان ! فاطمہ (رض) کے لیے پٹھوں سے بنا ہوا ہار اور ہاتھی کے دانتوں سے بنے ہوئے دو کنگن خرید کرلے آؤ۔