(۹۷۲۳)أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرٍ الْقَاضِی وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ الأَعْوَرُ قَالَ قَالَ ابْنُ جُرَیْجٍ أَخْبَرَنِی أَبُو الزُّبَیْرِ أَنَّہُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّہِ یَزْعُمُ : أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ نَہَی عَنِ الصُّوَرِ فِی الْبَیْتِ وَنَہَی الرَّجُلَ أَنْ یَصْنَعَہُ ، وَأَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ أَمَرَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ زَمَنَ الْفَتْحِ بِالْبَطْحَائِ أَنْ یَأْتِیَ الْکَعْبَۃَ فَیَمْحُو کُلَّ صُورَۃٍ فِیہَا وَلَمْ یَدْخُلِ الْبَیْتَ حَتَّی مُحِیَتْ کُلُّ صُورَۃٍ فِیہِ۔ [صحیح۔ ابن حبان ۵۸۴۴۔ احمد ۳/ ۳۳۵۔ ابو یعلی ۲۲۴۴]
(٩٧٢٣) جابر بن عبداللہ (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بیت اللہ میں تصویریں رکھنے سے منع کیا اور اس بات سے بھی منع فرمایا کہ کوئی انھیں بنائے اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بطحا سے ہی عمر بن خطاب (رض) کو فتح والے سال حکم دیا کہ وہ کعبہ جائیں اور ہر تصویر مٹا ڈالیں جو اس میں ہے اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس وقت تک داخل نہیں ہوئے جب تک کہ ساری تصویریں مٹا نہیں دی گئیں۔