(۹۷۴۲)أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُکْرَمٍ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ أَخْبَرَنَا أَفْلَحُ بْنُ حُمَیْدٍ عَنِ الْقَاسِمِ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَتْ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ فِی لَیَالِی الْحَجِّ وَذَکَرَتِ الْحَدِیثَ وَقَالَتْ : حَتَّی قَضَی اللَّہُ الْحَجَّ وَنَفَرْنَا مِنْ مِنًی فَنَزَلْنَا الْمُحَصَّبَ فَدَعَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِی بَکْرٍ فَقَالَ : اخْرُجْ بِأُخْتِکَ مِنَ الْحَرَمِ ثُمَّ افْرُغَا مِنْ طَوَافِکُمَا ثُمَّ تَأْتِیَانِی ہَا ہُنَا بِالْمُحَصَّبِ ۔ قَالَتْ : فَقَضَی اللَّہُ الْعُمْرَۃَ وَفَرَغْنَا مِنْ طَوافِنَا مِنْ جَوْفِ اللَّیْلِ فَأَتَیْنَاہُ بِالْمُحَصَّبِ فَقَالَ : فَرَغْتُنَّ ۔ قُلْنَا : نَعَمْ فَأَذَّنَ فِی النَّاسِ بِالرَّحِیلِ فَمَرَّ بِالْبَیْتِ فَطَافَ بِہِ ثُمَّ ارْتَحَل مُتَوَجِّہًا إِلَی الْمَدِینَۃِ۔
أَخْرَجَاہُ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ أَفْلَحَ بْنِ حُمَیْدٍ۔ [صحیح۔ بخاری ۱۶۹۶۔ مسلم ۱۲۱۷]
(٩٧٤٢) سیدہ عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ حج کی راتوں میں نکلے۔۔۔ انھوں نے حدیث ذکر کی اور فرمایا : حتیٰ کہ اللہ نے حج مکمل کردیا اور ہم منیٰ سے نکلے تو محصب میں پڑاؤ کیا ، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عبدالرحمن بن ابی بکر کو بلایا اور فرمایا : اپنی بہن کو لے کر حرم سے نکل جا ، پھر تم دونوں اپنے طواف سے فارغ ہو کر میرے پاس محصب میں آؤ ، کہتی ہیں : اللہ نے عمرہ بھی کروا دیا اور ہم اپنے طواف سے فارغ ہو کر رات کے دوران ہی محصب میں پہنچ گئے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا تم فارغ ہوگئے ہو ؟ ہم نے عرض کیا : جی ہاں، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کوچ کا اعلان کیا تو بیت اللہ کے پاس سے جب گزرے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کا طواف کیا، پھر مدینہ کی جانب چل رہے۔